سلمان رشدی بھوتوں کے آسیب میں

by Other Authors

Page 180 of 205

سلمان رشدی بھوتوں کے آسیب میں — Page 180

اپنی ذات پر لگنے والے الزامات کیلئے دل گردہ نہیں رکھتا جبکہ وہ دنیا کے ہر قلم کار کیلئے آزادی تقریر کا نعرہ بلند کرتا ہے۔میں اس اصول میں پائے جانے والے تضاد کی اب وضاحت کروں گا جس کیلئے بڑی تند مزاجی کے ساتھ رشدی معرکہ آرائی کرتا چلا آ رہا ہے۔مصنف کو کس نے مارا؟ یہ بات نمایاں طور پر واضح ہے کہ رشدی اور اس کے ادبی دنیا میں حمایتی کسی مصنف کی تحریر کی حدود اور حدود سے باہر آزادی کے موضوع کو کچھ زیادہ ہی طول دے رہے تھے۔مثلاً رشدی نے اس موضوع پر خود جو بیان دیاوہ قابل غور ہے : " انسانی حقوق کی فہرست میں آپ کہیں بھی اس حق کا ذکر نہ پائیں گے یعنی جذبات کو ٹھیس نہ لگانے کا حق۔اگر ایسا کوئی حق ہوتا تو پھر ہم سب کے ہونٹ سی دئے جاتے۔کسی آزاد معاشرہ میں دل آزاری کر نا کبھی بھی پابندی کی وجہ نہیں ہونا چاہئے"۔(The Times, February 15, 1992) لیکن ایک تخیلاتی ڈرامہ جس میں رشدی کی موت کو فرض کر لیا گیا اس پر رشدی کا شدید رد عمل خود غرضی کی مثال اور اس اصول کے عین متضاد تھا جس کیلئے وہ فتویٰ جاری ہونے کے بعد سے معرکہ آرائی کرتا آرہا تھا۔ڈرامہ کے مصنف برائن کلارک (Brian Clark) نے ایک ڈرامہ ? Who Killed the Writer " مصنف کو کس نے مار ڈالا؟") کے عنوان سے لکھا۔یہ فتویٰ کے بعد لکھا گیا تھا تا مصنفین ہر قسم کی حمایت کا اظہار کر کے اس واقعہ سے سبق سیکھیں۔وہ ایک قاتل اور سیاسی صحافی کے مابین ہو نیوالے جھگڑے کے ذریعہ یہ بتلانا چاہتا تھا کہ " اگر چہ آیت اللہ خمینی کی طرف سے رشدی کی مذمت دنیا کے کسی بھی نظام میں جس کو ہم برداشت کر سکتے ہیں شرانگیز اور نا قابل قبول تھی لیکن ایسا یونہی نہ ہوا تھا۔مغربی طاقتوں نے اس عفریت کو خود دودھ پلا یا جواب ہم سب کو زندہ نگل جانے کی دھمکیاں دے رہا ہے"۔قبل اس کے کہ عوام الناس کو اس ڈرامے کی خبر ملتی برائن کلارک نے جو خط اپنے ڈرامے کی نقل کے ساتھ سلمان رشدی کو بھجوایا تھا یہ اس کے پہلے صفحہ سے اقتباس ہے۔اس نے رشدی کو یقین دہانی کرائی کہ : " اگر چہ میں تمہاری رنجیدہ اور ناگوار صورت حال کو استعمال میں لایا ہوں تا ہم میں نے اس کا استحصال نہیں کیا ہے۔مجھے ڈرامے سے صرف ایک توقع تھی اور وہ یہ کہ اسلامی 180