سلمان رشدی بھوتوں کے آسیب میں

by Other Authors

Page 181 of 205

سلمان رشدی بھوتوں کے آسیب میں — Page 181

بنیاد پرستی کی بحث کو وسیع تر کرتے ہوئے میں یہ کوشش کروں کہ دنیا میں موجود تناؤ کو کن ہو تو کم کیا جائے"۔یہ ایک ہمدم دیر سینہ اور ہم پیشہ مصنف کی طرف سے دلجوئی اور نیک جذبہ کا اظہار تھا لیکن رشدی نے اس کا جو جواب دیا اس سے ایک بار پھر اس کا سرکش اور خود غرضانہ کردار منکشف ہو گیا۔برائن کلارک نے سلسلہ کلام جاری رکھتے ہوئے کہا: "مسٹر رشدی نے میرے خط کا جواب یوں دیا کہ اس نے میری فون آنسرنگ مشین پر یہ پیغام چھوڑا کہ اس کو اس بات پر سخت دھچکا لگا ہے کہ میں نے یہ کیسے سوچ لیا کہ ایک ایسا ڈرامہ جس میں اُس کی موت کو فرضی طور پر پیش کیا گیا۔وہ اس کو کسی طور سے قابل قبول ہوگا۔اور یہ کہ اس ڈرامے کے کئے جانے میں وہ رکا وٹیں پیدا کر لگا"۔بعد ازاں برائن کلارک ایک دوسرے خط کے ملنے پر انگشت بدنداں رہ گیا جو اس کو رشدی کے ایجنٹ نے بھیجا تھا۔اس میں لکھا تھا اگر ہم ڈرامے کی پروڈکشن کر نیکا ارادہ رکھتے ہیں تو ہم اس کو تحریری اطلاع دیں تا وہ سلمان رشدی کے قانونی حقوق کی نگہبانی کر سکے۔برائن کلارک نے اس ڈرامے کو شیخ نہ کرنیکا فیصلہ کر لیا مگر اس کے باوجود اس کو رشدی کی طرف سے ایسا کوئی خط نہ آیا جس میں اس نے اس تلطف کا ذکر کیا ہو۔برائن کو اس کے بعد احساس ہوا کہ اس کا اپنے ڈرامے پر پابندی لگانے کا فیصلہ غلط تھا۔انصاف پسند لوگوں کی اکثریت برائن کلارک کے اس دعوی سے اتفاق کرے گی جب وہ قیاس آرائی کرتا ہے کہ : " رشدی کی ستم ظریفی دیکھیں جب وہ تقاضا کرتا ہے کہ ایک ڈرامے کو محض اس لئے منسوخ کر دیا جائے کیونکہ اس سے وہ دیگر ہوا ہے یہ امرا تناواضح تھا کہ جلد ہی مجھے احساس ہو گیا کہ وہ سوچنے کی اہلیت سے یکسر معذور ہو چکا ہے"۔حقیقت تو یہ ہے کہ رشدی اپنے ادبی پیشہ کے شروع ہوتے ہی سوچنے کی اہلیت سے معذور ہو گیا تھا۔اس کی بصیرت شہرت اور دولت کے سیاہ بادلوں کے چھا جانے سے دھندلا گئی اور The Stanic Verses کی اشاعت پر یہ اوج کمال کو پہنچ گئی۔181)