سلمان رشدی بھوتوں کے آسیب میں — Page 17
باب اول اسلام اور نبی پاک ﷺ پر ابتدائی حملے اسلام پر حملے، جس طرح کہ دوسرے مذاہب کے ساتھ ہوتا آیا ہے ، روز اول سے ہونا شروع ہو گئے تھے۔جو نبی نبی پاک ﷺ نے نبوت کا دعوی کیا تمام مکہ راتوں رات عملی طور پر آپ کے خلاف محاذ آرائی میں لگ گیا۔اہل مکہ نے اپنے نا پاک بد عزائم کے ذریعہ اس نئے دین کو نیست و نابود کر نے میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھی ، یعنی صرف ایک خدا کی عبادت کے تصور کو۔سرور کائنات ﷺ کے متبعین کو سخت سے سخت سزائیں دی گئیں، ایسی کہ تاریخ انسانیت میں کسی قوم کے لوگوں کو ایسی ظالمانہ اذیتیں نہ دی گئی تھیں۔اسلام پر ہونے والے حملے ابتداء جسمانی نوعیت کے تھے۔اسلام کے معاندین کا خیال تھا که رسول مقبول ﷺ کو قتل کر دینے سے یہ نیا مذ ہب پینے سے قبل ہی ختم ہو جائیگا۔اور ایسا کرنے کے لئے معاندین اسلام تمام قسم کے حربے استعمال کرنے پر آمادہ تھے۔لیکن سچے مذہب میں ایک پنہاں صفت لچک کی ہوتی ہے جس کو زور بازو سے چھینا نہیں جا سکتا۔اسلام پر بھی یہی صورت حال صادق آتی ہے۔طاقت کے استعمال کی یہ کوششیں اسلام کے خلاف رائیگاں گئیں۔ہر گذرنے والے دن کے ساتھ اسلام بے نظیر کامیابیوں کے ساتھ پھیلتا چلا گیا۔جیسا کہ تاریخ گواہ ہے جلد ہی سارے جزیرہ نما عرب نے اسلام بخوشی قبول کر لیا۔آنحضور علیہ کے وصال کے بعد بھی اسلام کے پھیلنے کی رفتار جوں کی توں بڑھتی رہی اور زیادہ وقت نہ گزرا کہ اسلام یورپ کے دروازے پر دستک دینے لگا۔تقریباً یہی وہ وقت ہے جب اسلام پر حملوں نے علمی صورت اختیار کر لی ، اس کے سرغنہ بعض عیسائی اور یہودی قلم کار تھے جنہوں نے اس امر کو اپنا پیدائشی حق اور مقصد حیات قرار دے دیا 17