سلمان رشدی بھوتوں کے آسیب میں — Page 167
رشدی بیان کے ایک دوسرے حصہ میں اپنے ساتھی سازشیوں کے نام گنواتا ہے۔جب وہ کتاب کو واپس نہ لینے کے ذاتی فیصلے کا دفاع کرتا ہے تو اس کے دل میں اقلیت کا مفاد مد نظر ہے نہ کہ پوری دنیا کے مسلمانوں کی اکثریت کا مفاد : " دی سٹینک ورسز " ایسا ناول ہے جو بہت سارے قارئین کی نظر میں قابل قدر ہے۔میں ان سے دھو کہ نہیں کر سکتا"۔اس کی شرافت کے کیا کہنے۔وہ چند ایک لوگوں کے جذبات کا خیال رکھتا ہے بہ نسبت کروڑوں افراد کی تذلیل کے۔رشدی کا باطن ظاہر و باہر ہو گیا ہے۔اس نے دشمنانِ اسلام کے ساتھ غیر تحریری معاہدہ کر لیا تھا جن کو وہ دھوکہ نہ دے سکتا بلکہ دھوکہ دینے کی جرات بھی نہیں کر سکتا تھا۔رشدی ایسا بھگوڑا ہے جس نے ہاتھ آئے شکار کو دونوں ہاتھوں سے پکڑ لیا۔اس نے ذرا بھی پرواہ نہ کی کہ وہ دنیا کے مسلمانوں کے اعتماد کو ٹھیس لگائے گا جن کیلئے اس نے منافقانہ ہمدردی کا ڈھونگ رچایا تھا۔انسان یقیناً سوچنے پر مجبور ہو جاتا ہے کہ جیسے ایک پرانی کہاوت ہے رشدی جیسا جس کا کوئی دوست ہوا سے دشمن کی کیا ضرورت ہے؟ رشدی تمسخرانہ رنگ میں اپنے بیان کو ختم کرتے ہوئے تمام مسلمانوں سے اپیل کرتا ہے کہ وہ اس رفع نزاع کے طریق کار میں شامل ہو جائیں جس کی ابتداء ہو چکی ہے : " مجھے جس قد ر ا سلام کے بارہ میں معلوم ہے وہ یہ ہے کہ رواداری ، رحمدلی اور محبت اس کا نقطہ معکوس ہیں "۔امر واقعہ یہ ہے کہ اب تک اس کی شائع ہونیوالی کتابوں میں اسلام کا پیغام اس کے نزدیک موجودہ بیان کی ضد رہا ہے۔وہ شاید مسلمانوں کو احمق سمجھتا ہے جو اس کی متکبرانہ گذارش کو قبول کر لیں گے۔وہ یہ بھی کہتا ہے کہ "دشمنی کی زبان کو محبت کی زبان میں بدل دیا جائیگا۔اس کی یہ خواہش کس قد رفضول اور واہیات ہے۔جس چیز کو بدلنا ضروری ہے وہ ناول میں استعمال ہو نیوالی گندی اور مخش زبان ہے۔جب تک ایسا نہیں ہوتا بہت تھوڑے مسلمان چشم پوشی پر آمادہ ہوں گے تا اس کے ساتھ بامعنی تبادلہ خیال کیا جاسکے۔اب یہ معاملہ مسٹر رشدی کے ہاتھوں میں ہے۔جوں جوں وقت گذرتا گیا رشدی کا اضطراب بڑھنے لگا کیونکہ فتویٰ کے حکم میں دباؤ کم ہوتا نظر نہ آتا تھا۔جلاوطنی میں جو وقت وہ گزار رہا تھا وہ اس کے لئے نا قابل برداشت بن گیا تھا۔جو موقع اس کو نصیب ہوا اس نے اپنے نقطہ نظر کو بیان کرنے میں استعمال کیا۔جس دوران مغربی 167)