سلمان رشدی بھوتوں کے آسیب میں

by Other Authors

Page 145 of 205

سلمان رشدی بھوتوں کے آسیب میں — Page 145

وہ تو آپے سے باہر ہو گیا۔تلوار میان سے نکال اس نے حضور ﷺ سے التجا کی کہ وہ اسے اپنے باپ کو تہ تیغ کر دینے کی اجازت مرحمت فرمائیں۔اس کے علاوہ دیگر مسلمان بھی آپ کے پاس آئے لیکن آپ نے ہر ایک کو اجازت دینے سے انکار کر دیا۔بلکہ آپ نے بڑے اصرار سے فرمایا کہ عبداللہ کے خلاف کوئی سرزنش نہیں کی جائینگی۔صلى الله یہ قصہ یہیں ختم نہیں ہو جاتا۔کئی سالوں بعد جب عبد اللہ بن ابی بن سلول کی وفات ہوئی تو خاتم المرسلین ﷺے اس کی تجہیز و تکفین میں بنفس نفیس شامل ہوئے۔آنحضور ﷺ کی رحمدلی سے ہر کوئی واقف تھا اس کے باوجود آپ کے اس فعل نے آپ کے صحابہ کرام کو بھی حیرت میں ڈال دیا۔یہ وہ اصل اسلام ہے جس کی تعلیم قرآن مجید دیتا ہے اور جس کا عملی نمونہ حضور نبی پاک نے نے پیش کیا ہے۔آپ کے نیک نمونہ پر عمل پیرا ہونے کی ہر مسلمان کو تاکید کی جاتی ہے۔کسی مذہب کا فیصلہ اس کے چند ایک انتہا پسند ماننے والوں کے اعمال اور خیالات سے نہیں کیا جا سکتا بلکہ اس کا فیصلہ مصدقہ ماخذوں سے کیا جانا چاہئے جن پر اس کی بنیاد ہے۔کیا شمالی آئر لینڈ میں جو جدید زمانے کی کیتھولک اور پروٹسٹنٹ جنگ ہوئی تھی اس سے عیسائیت کے بارہ میں فیصلہ دیا جا سکتا ہے؟ یہ جنگ جو عیسائیت کے نام پر لڑی گئی تھی یا عہد وسطی کے زمانے میں عیسائیوں کے بہیمانہ مظالم جو سپین کی مذہبی عدالت Spanish Inquisition نے سچائی اگلنے کیلئے وحشیانہ آلات جیسے ریک (Rack) اور آئرن میڈن (Iron Maiden) بے تکلف استعمال کئے۔کیا یہ وہ عیسائیت تھی جس کا پر چار حضرت عیسی علیہ السلام نے کیا تھا جو بذات خود نا قابل بیان اور شدید اذیت کا نشانہ بنے تھے؟ جمله ادیان ، اقوام اور برادریوں کے درمیان مفاہمت کیلئے کشادہ دلی سے رواداری، عقل سلیم اور دانشمندی کی ضرورت ہے۔لیکن مغربی ذرائع ابلاغ کو رشدی افئیر اور امام خمینی کے فتویٰ جاری کرنے پر اسلام کے خلاف بغض و عناد کی آگ کو ہوا دینے کیلئے کھلی چھٹی مل گئی۔یہ بات مختلف اخبارات کے آگے دئے جانے والے تراشوں سے ثابت ہو جائیگی۔145