سلمان رشدی بھوتوں کے آسیب میں

by Other Authors

Page 129 of 205

سلمان رشدی بھوتوں کے آسیب میں — Page 129

تھا، یہ کہ وہ عائشہ کے بستر میں دراز تھا اور اس کا سریوں پھٹ رہا تھا گویا اس کے اندر بھوت پریت بھرے ہوئے ہوں۔پھر وہ بہت روئی یہ جانتے ہوئے کہ وہ اس کی موت کا ذکر کر رہی تھی ، اس موقعہ پر اس کی آنکھیں اس کو دیکھتے ہوئے گزر گئیں اور کمرے میں موجود ایک اور شخص پر رک گئیں یہاں کون ہے؟ اس نے آواز لگائی۔کیا یہ تم ہو عزرائیل ؟ لیکن عائشہ نے ایک مدھر آواز سنی جو عورت کی تھی جس نے جواب میں کہا نہیں اے الات کے رسول، یہ عزرائیل نہیں ہے۔پھر قندیل بجھ گئی اور اندھیرے میں ماہونڈ نے استفسار کیا : کیا یہ بیماری اے الات تو نے مجھے دی ہے؟ اس عورت نے جواب میں کہا: یہ میرا انتقام ہے اور میں مطمئن ہوں ، ان کو اونٹ کی ٹانگ کی موٹی رگ کاٹنے دو، اور تمہاری قبر پر رکھنے دو۔پھر وہ عورت باہر گئی اور وہ قندیل جو بجھ گئی تھی ایک بار پھر بڑی پر سکون روشنی دینے لگی، اب پیغمبر نے سرگوشی کی : اس کے باوجوداے الات اس تحفے کیلئے میں تیرا ممنون ہوں'۔(صفحات 393/394) اس نے یہ تاثر دینے کی کوشش کی ہے کہ معاذ اللہ نبی کریم ﷺ زندگی کے آخری لمحات میں شیطانی خیالات کا شکار ہو گئے تھے۔کیا یہ ایسے شخص کے خیالات ہو سکتے ہیں جس نے ساری زندگی خدا کی وحدانیت کا اس یقین محکم کے ساتھ پر چار کیا جس کی نظیر نہیں ملتی ؟ رشدی ضرور احمقانہ تصوراتی دنیا میں رہ رہا ہوگا کہ وہ اس قسم کے مضحکہ خیز اور جعلی دعوے کرتا ہے۔اس نے اس معاملے کو افسانوی کہہ کر پیش کرنے کی جو کوشش کی ہے اس سے وہ کسی کو بیوقوف نہیں بنا سکا۔یہ اسلام اور ہر وہ چیز جس کا اسلام سے ذرا بھی تعلق ہے اس پر سوچا سمجھا اور پہلے سے تیار کردہ حملہ ہے۔اس کا واحد مقصد یہی تھا کہ پوری دنیا کے مسلمانوں کے جذبات کو مجروح کیا جائے۔سلمان رشدی ایک تنہا فرد کی حیثیت سے اس منصوبے کا سوچ بھی نہیں سکتا تھا اور نہ ہی وہ قدامت پسند مسلمانوں کے دبے ہوئے جذبات کو مشتعل کرنی کا خطرہ مول لے سکتا تھا۔ہاں اس کے بدلے اگر اس کو اتنی دولت دی جاتی کہ جسے وہ بمشکل سنبھال سکتا اور اتنی شہرت دی جاتی جس سے وہ آسانی سے جی سکتا نیز حالات کے دگرگوں ہونے کی صورت میں اسے مکمل حفاظت کا وعدہ کیا جاتا تو وہ ضرور ایسا کر لیتا۔ادی سٹینک ورسز' کی اشاعت کے بعد ہونے والے رد عمل پر ایک نگاہ ڈالنا دلچسپی سے 129)