سلمان رشدی بھوتوں کے آسیب میں — Page 126
مہاجرین تھا۔یہاں مسلمان کئی سال تک مقیم رہے مگر قریش کے حملے کا خطرہ ہر وقت موجود رہتا تھا جو رفتہ رفتہ دیگر مقامی قبائل پر اپنا سیاسی اثر جمارہے تھے۔ایک موقعہ پر قریش نے مدینہ پر حملہ کرنے کیلئے دس ہزار سپاہی جمع کر لئے تھے تا اسلام کو ہمیشہ ہمیش کیلئے صفحہ ہستی سے مٹادیا جائے۔مسلمان تعداد اور اسلحہ میں بہت قلیل تھے۔جب رسول اللہ ﷺ کو قریش کے جلد ہو نیوالے حملہ کا علم ہوا تو آپ نے صحابہ کو مشورہ کیلئے طلب کیا۔سلمان فارسی ان میں سے ایک تھے۔آپ نے تجویز کیا کہ مسلمان مدینہ کے اس حصہ کے گرد وسیع خندق کھود کر خود کو محفوظ کر سکتے ہیں جو حملہ کی زد میں تھا۔رسول اللہ ﷺ کو یہ مشورہ پسند آیا اور آپ نے خندق کھودنے کا ارشاد فرمایا، کھدائی کا یہ کام انصار اور مہاجرین کے درمیان تقسیم کر دیا گیا، مگر سوال پیدا ہوا کہ سلمان فارسی کس گروہ کے ساتھ کام کریں گے؟ یہ سوال نبی کریم ہے سے کیا گیا تو آپ نے چہرہ مبارک پر مسکراہٹ لاتے ہوئے فرمایا: "سلمان نہ تو انصار سے ہے اور نہ مہاجرین میں سے، وہ میرے خاندان میں سے اور ہم میں سے ایک ہے "۔اس کے بعد سلمان فارسی کو ہمیشہ اہل بیت میں شمار کیا گیا۔اس واقعہ سے سلمان فارسی کی عظمت و رفعت تاریخ اسلام میں واضح ہو کر سامنے آجاتی ہے مگر اس کے باوجود سلمان رشدی پر اس بات کوئی اثر نہیں ہوتا کیونکہ وہ اس قسم کے بیش بہا موتیوں کو غلاظت میں ملانے پر تلا ہوا تھا۔سب سے برا سلوک اس نے نبی پاک ﷺ اور آپ کی ازواج مطہرات کے ساتھ کیا ہے۔اسلامی تعلیمات کو نشانہ تضحیک بنایا ہے اور برگزیدہ ہستیوں کو بری طرح روندا گیا ہے۔آزادی تقریر کی جنگ لڑنے کی خاطر اس نے عام رواداری کو بہت دور پھینک دیا ہے، حتی کہ اس کو اپنے ہی جیسے انسانوں کے جذبات کا ذرا بھی احساس نہیں رہتا۔صلى الله رسول اللہ علیہ کے خلاف مزید الزامات ہم ایک بار پھر 'The Stanic Verses' کی طرف لوٹتے ہیں جس میں کثرت ازدواج اور رسول کریم ﷺ کی جنسی عیاشی ( معاذ اللہ ) کو ایسے زہریلے قلم میں ڈبو کر کھا گیا ہے جو سم قاتل کی حیثیت رکھتا ہے۔رشدی لکھتا ہے : " میثرب کی خندق کے باوجو د مومنین کے بہت سارے سپاہی جاہلیہ کی فوج کے ہاتھوں مارے گئے اور لڑائی کے بعد جبرائیل بچ جانے 126