سلمان رشدی بھوتوں کے آسیب میں

by Other Authors

Page 12 of 205

سلمان رشدی بھوتوں کے آسیب میں — Page 12

شخصیات کے کردار کو مسلنے کی ناپاک کوشش کی قتل میں ملوث لوگ ایسا اکیلے نہیں کرتے اور یہی وہ مقام ہے جہاں ارشد احمدی صاحب نے ناقابل تردید شہادت پیش کی ہے، یہ شہادت حالات پر مبنی ہونے کے باوجود اس بات کا پتہ دیتی ہے کہ بعض دوسرے ادارے بھی اس میں ضرور شامل تھے۔مصنف کی دلیل یہ ہے کہ وہ شخص جو بذات خود یہ دعوی کر چکا ہو کہ اسے اسلام سے کوئی دلچسپی نہیں وہ اس کے باوجود ایسی ایذارساں عبارتیں قابل احترام شخصیات کے بارہ میں لکھ جائے کہ ان سے ان کے متبعین کو زیادہ سے زیادہ گزند پہنچے۔پھر وہ پوچھتا ہے کہ قبل از اشاعت مصنف کو ایک خطیر رقم کیوں ادا کر دی گئی؟ مزید یہ کہ ناشرین کتاب نے قانونی مشیروں کے مشورہ کو رد کرتے ہوئے کتاب کی اشاعت کو روکنے سے کیوں انکار کیا ؟ ان اور اس طرح کے دوسرے سوالوں کا جواب تو تبھی مل سکتا ہے اگر اس نتیجہ پر پہنچا جائے کہ رشدی کو اس مذموم مقصد کیلئے در پردہ تیار کیا گیا تھا اور شرارت کرنا ہی اسکا اصل مقصد تھا۔ایسی گندی شرارت سے چند ایک کے اسلام کے خلاف جذبات تو شاید ٹھنڈے پڑ جائیں لیکن اس سے نسلی تعلقات کو استوار کرنے میں کوئی مدد نہیں ملتی۔اس کے اثرات برطانیہ میں بہت گہرے مرتب ہوئے ہیں۔مسلمان شہریوں اور مقامی باشندوں کے درمیان خلاء حائل ہو گیا ہے۔ا حزب طاہرا اور تحریک خلافت اجیسے گروہوں کی جڑیں مضبوط ہوگئی ہیں۔ان کے ہتھکنڈوں نے اسلام کے خلاف شبہات کو تقویت بخشی ہے اور دونوں طبقوں میں عدم اعتماد پیدا ہو گیا ہے۔اس دائرہ اثر کو ختم ہو جانا چاہئے۔اہل مغرب کو چاہئے کہ اسلام کے بارہ میں کلیسائی جنگوں اور ایک زمانہ سے چلی آنے والی جھڑپوں کے نتیجہ میں مرتب ہونے والے نظریات کو ترک کر دیں۔چاہئے کہ وہ اس پالیسی کو خیر باد کہہ دیں کہ انہوں نے مسلمانوں کو بنیاد پرستی میں دھکیل کر ان کو بنیاد پرستی کی وجہ سے سزاوار بھی قرار دینا ہے۔خیر ابھی فضاء افسردگی کے جذبات اور مکمل تباہی کے خیالات سے پوری طرح مکدر نہیں ہوئی۔کیونکہ اسلام کی مذمت میں آواز بلند کرنے والوں میں چند ایسے لوگ بھی مغرب میں موجود ہیں جو پرنس چارلس کی طرح غلطی کی نشاندہی کر کے باہمی مفاہمت کے لئے صدا بلند کر رہے ہیں۔ارشد کی کتاب میں یہ قابل قدر کوشش کی گئی ہے کہ مسلمانوں کا جواب ان کے عقائد میں کمی بیشی کے 12