سلمان رشدی بھوتوں کے آسیب میں

by Other Authors

Page 118 of 205

سلمان رشدی بھوتوں کے آسیب میں — Page 118

اسلامی ماخذوں سے ہمارے تک پہنچا ہے " (صفحہ 114) اور مزید یہ کہ " یہ بات کوئی سوچ بھی نہیں سکتا کہ کسی مسلمان نے اس واقعہ کا اختراع کر لیا ہوگا ، یا یہ کہ طبری جو کہ محتاط عالم دین تھا اس نے اس کو مشکوک ذرائع سے قبول کر لیا ہو گا " (صفحہ 115 )۔منٹگمری واٹ یہی دلیل اپنی تمام کتابوں صلى الله میں استعمال کرتا ہے گویا آنحضور ﷺ سے ہو نیوالی اخلاقی غلطیوں کو ثابت کرنے کیلئے یہ واقعہ بہت ہی وزنی ہے۔یوں وہ آپ کے کردار کو داغدار کر دیتا ہے جس کے متعلق مسلمان شیخیاں بگھارتے ہیں۔یہ کوئی اچنبہ کی بات نہیں کہ مغربی مصنفین کی ایک کثیر تعداد اس واقعہ کا بار بار ذکر کرتی ہے اور یہ بھی کوئی حیرت کی بات نہیں کہ ایک ناول کے عنوان کا انتخاب کرتے ہوئے اس کا نام شیطانی آیات (The Stanic Verses) رکھا گیا تھا۔کیرن آرم سٹرانگ کیرن آرم سٹرانگ نے اپنی کتاب 'محمد' میں ایک پورا باب ' دی سٹینک ورسز' کے عنوان پر مخصوص کیا ہے۔میری دانست میں اس نے اس واقعہ کی مختلف روایات بیان کر کے غیر جانبدارانہ اور متوازن نقطہ نظر پیش کیا ہے۔اس نے اس واقعہ کے بعض ماخذوں پر بھی شک کا اظہار کر کے نے واقعہ کے کا کر قارئین پر چھوڑ دیا ہے کہ وہ اس قصے کی مکمل تصدیق کے متعلق فیصلہ خود ہی کرلیں۔اس قصے پر اظہار خیال کرتے ہوئے وہ کہتی ہے کہ : " یہ کہانی دوسری احادیث بلکہ قرآن سے بھی اختلاف رکھتی ہے۔" پھر وہ ہمیں یاد دہانی کراتی ہے کہ "طبری جیسا مسلمان مؤرخ تمام روایات جو وہ قلم بند کرتا ہے ان کی وہ تصدیق نہیں کرتا، وہ قاری سے امید رکھتا ہے کہ وہ ان کا موازنہ دوسری روایات کے ساتھ کر کے ان کی صحت کے متعلق خود فیصلہ کرے گا (صفحہ 113)۔آرم سٹرانگ اس بات کا انکشاف بھی کرتی ہے کہ طبری کے پاس اس واقعہ کی ایک سے زیادہ روایات تھیں " طبری نے تاریخ پر اپنی کتاب میں ایک ایسی روایت بھی قلم بند کی ہے جو اس واقعہ کا بالکل مختلف پہلو بیان کرتی ہے (صفحہ 113)۔یوں طبری کا ماخذ اور اس کا طرز بیان بالکل نا قابل اعتبار ہو جاتے ہیں۔اس باب میں ایک اور جگہ کیرن آرم سٹرانگ اس واقعہ کی تردید میں مسلمانوں کی طرف 118)