سلمان رشدی بھوتوں کے آسیب میں

by Other Authors

Page 110 of 205

سلمان رشدی بھوتوں کے آسیب میں — Page 110

جذبات کو بغیر کسی وجہ کے مجروح کیا جائے۔میرا مقصد ساری ملحدانہ زبان جو اس ناول میں استعمال کی گئی ہے اس کو بیان کرنا نہیں اور نہ ہی اسلام کی پاکباز ہستیوں کے بارہ میں جو اذیت ناک باتیں کہی گئیں ان کو بیان کرنا ہے کیونکہ ان کو احاطہ زبان میں لانے کیلئے سینکڑوں صفحات درکار ہوں گے۔اس کی بجائے میں صرف چند مثالیں پیش کروں گا تا مصنف کے اس بودے دعوئی کہ یہ افسانوی کتاب ہے کی قلعی کھول دی جائے۔یوں ایک اور بات واضح ہو کر سامنے آئینگی کہ اس مصنف کو ہر وہ چیز جو اسلامی ہے اس سے کتنی نفرت ہے۔قرآن مجید رسول اکرم ﷺ پر حضرت جبرائیل علیہ السلام کی وساطت سے نازل کیا گیا تھا۔اردو میں انگریزی لفظ اینجل (Angel) کو فرشتہ کہتے ہیں۔ناول کا ایک مرکزی کردار ایسے طور پر پیش کیا گیا ہے جو جبرائیل فرشتہ ہے جس کو پورے ناول کے اندر جنسیات کا بھوکا نیم دیوتا ، نصف انسان ، آوارہ، جو ہر قسم کی برائیوں میں خوشی محسوس کرتا ہے ( جیسے زنا محرمات سے مباشرت کرنا، اور خنزیر کھانا )، ایسا اس لئے کیا گیا ہے تا کہ یہ ثابت کیا جاسکے کہ خدا اب قادر مطلق نہیں رہا ہے۔(صفحات 30-25)۔کیا ایک افسانوی ناول میں ایک اسلامی پاکباز ہستی کا استعمال کیا جانا بہت ضروری تھا؟ یا کہ مصنف دنیا میں بسے لکھوکھا مسلمانوں کے حساس جذبات سے بالکل نا آشنا تھا؟ مکہ جسے اسلامی دنیا میں سب سے معزز ترین شہر سمجھا جاتا ہے اسکو ناول میں 'جہالت کا شہر' کہا گیا ہے (صفحہ 95)۔حضرت ابراہیم علیہ السلام کو حرامی کہا گیا ہے (نعوذ باللہ ) اور آنحضور ﷺ کے صحابہ بھی اس کے زہر یلے قلم سے محفوظ نہیں رہے۔سلمان فارسی گو دیگر برے ناموں کے علاوہ کسی قسم کا اوباش کہا گیا ہے۔بلال کو سیاہ فام عفریت کہا گیا ہے۔ان دونوں معزز ہستیوں اور حضرت خالد کو فضلے کی تثلیث، لچے لفنگے ، آوارہ گرد اور بدمعاش غنڈے مسخرے کہا گیا ہے۔نبی پاک کے چا محترم حضرت حمزہ کی بھی تو ہین کی گئی ہے۔(صفحہ 104) صل الله کیا یہ محض اتفاق ہے کہ کتاب میں استعمال ہو نیوالے تخیلاتی کردار آنحضور کے صحابہ کرام سے ملتے جلتے ہیں؟ یا کہ اس کا مقصد دنیا کے کونے کونے میں بسے ہوئے مسلمانوں کے جذبات کو مجروح کرنا تھا؟ کیا یہ محض اتفاق ہے کہ اس ناول میں وہ طوائف خانہ جس کا نام 'حجاب' صلى الله رکھا گیا ہے ، اور فرضی طور پر رسول اکرم ﷺ کے زمانہ میں موجود بتایا گیا ہے ، یہ ایسی رنڈیوں 110