سلمان رشدی بھوتوں کے آسیب میں

by Other Authors

Page 107 of 205

سلمان رشدی بھوتوں کے آسیب میں — Page 107

بھٹو کو زیادہ پسند کرتا ہے کیونکہ بھٹو بذات خود مغرب کی کٹھ پتلی تھا۔بھٹو اور اس کی اولا د نے برطانیہ میں تعلیم حاصل کی اور ہر وہ چیز جس کا تعلق مغرب سے تھا ان کو ہر دلعزیز تھی۔یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ رشدی کو ضیاء الحق اور اس کے پاکستان کو اسلامی ریاست بنانے سے کس قدر نفرت تھی۔یہ بات نمایاں طور پر ظاہر ہو چکی ہے کہ ہر وہ چیز جو غیر اسلامی ہے رشدی کو بہت اچھی لگتی ہے۔اس لئے ضیاء الحق کی اسلامی حکومت اور ضیاء کے عزائم سے اس کی شدید بیزاری فطری تھی۔رشدی نے تخیلاتی کرداروں کے ذریعہ ضیاء الحق کے بھٹو کو پھانسی چڑھانے کا ذکر کیا ہے (صفحات 230-231)۔بلکہ بے نظیر کی قابل رحم حالت کا بھی ذکر ہمدردی کے رنگ میں کیا گیا ہے۔اور اس کا کردار بھی تخیلاتی کردار میں چھپا کر پیش کیا گیا۔جن تخیلاتی کرداروں کو اس نے استعمال کیا ہے وہ اس اصل سیاسی پیغام کو چھپا نہیں سکتے جو وہ دوسروں تک پہنچانا چاہتا ہے۔وہ ضیاء حکومت کے ہر کام کے خلاف تھا اور اس نے پاکستان پیپلز پارٹی کے حق میں اپنی پسندیدگی کا اظہار کھلم کھلا کیا ہے۔اس نے جنرل رضا کا کردار ضیاء کیلئے استعمال کر کے ضیاء کی غیر مہذب چالوں پر جان بوجھ کر روشنی ڈالی ہے تا وہ اسلام کو وحشیانہ اور غلط رنگ میں پیش کر سکے۔مثلاً وہ کہتا ہے: "جنرل رضانے پیغمبر اسلام کے یوم ولادت کے موقعہ پر اس چیز کا انتظام کیا کہ ملک کی ہر مسجد میں صبح نو بجے سائرن بجایا جائے اور ہر وہ شخص جو سائرن کی آواز پر عین اس وقت کھڑا نہ ہو جائے یا دعا کیلئے ہاتھ نہ اٹھائے ، اسے جیل روانہ کر دیا جائے۔۔۔اس نے اعلانیہ کہا کہ خدا اور اشتراکیت آپس میں مطابقت نہیں رکھتے ، اور اسلامک سوشلزم کا وہ نعرہ جس پر پاپولر فرنٹ کی عوام کیلئے کشش تھی وہ خدا کی شان میں بدترین گستاخی تھی۔اگر عورتوں کے پیٹ ننگے نظر آتے جب وہ سڑکوں پر جارہی ہوتیں تو مردان پر تھوکتے ، اور رمضان کے مہینہ میں اگر کوئی سگریٹ نوشی کرتا تو گلا گھونٹ کر اسے موت کی نیند سلا یا جا سکتا تھا"۔(صفحات 248-247) کتاب کا ایک پورا باب جس کا عنوان 'Beauty & the Beast' ہے (صفحات 173-146) اس کا مقصد پاکستان میں عورتوں کے ساتھ سلوک کے متعلق مملکت پاکستان کو ذلیل کرنا ہے۔ملک میں عورتوں سے مردوں کی مزعومہ بدسلوکی کو طے شدہ شادیوں کے رواج پر 107)