سلمان رشدی بھوتوں کے آسیب میں — Page 83
باب نهم عالمی نظام نو دور حاضر کا ایک اور اہم مسئلہ جس کی وجہ سے مغرب نے اسلام کو تباہ و بربادکرنے کی ٹھان لی وہ درج ذیل نقطہ نگاہ سے مستنبط کیا جاسکتا ہے۔یہ کوئی ڈھکا چھپا راز نہیں کہ آجکل کی بڑی طاقتوں نے ایک عالمی نظام نو کا خواب دیکھ رکھا ہے جس کا لیڈر امریکہ ہوگا جو اس وقت دنیا کی سب سے زیادہ طاقتور قوم تسلیم کیا جاتا ہے۔اہل مغرب کی سوچ بچار کے مطابق سائنس اور ٹیکنالوجی میں ترقی کا مطلب یہ ہے کہ نسل انسانی واحد عالمی نظام کی جانب قدم رنجہ ہے۔اقوام متحدہ میں پہلے ہی ایک قسم کا سیاسی اتحاد پایا جاتا ہے جو اگر چہ زیبائش کی نوعیت کا ہے اور کسی بھی سیاسی مسئلہ کے حل کیلئے غیر مؤثر ہے۔ایک واحدا تیز فہم عالمی تہذیب بنانے کیلئے بھی دنیا میں تحریک پائی جاتی ہے مگر یہ ابھی تک اتحاد سے کوسوں دور ہے۔دنیا کی اکثر اقوام مغرب کے پڑھے لکھے طبقہ کے لادینی پہلو کو قبول کر رہی ہیں۔لیکن اس سے آگے تنوع بہت زیادہ ہے خاص طور پر مذہب کے معاملے میں۔یہ تحریک جو متحدہ عالمی تہذیب کیلئے ہے اس کے مقاصد کو بروئے کارلانے کا مطلب ہوگا کہ تمام ادیان کو اس ابھرتے ہوئے اتحاد کیلئے اپنے رویہ کو دوبارہ زیر غور لانا ہوگا۔خاص طور پر (فنڈامینٹلسٹ ) بنیاد پرست اسلام۔وہ اس بات کو ترجیح دیں گے کہ تمام مذاہب میں مصالحت پیدا ہو کیونکہ پیش آمدہ مستقبل میں ان کا نصب العین مذاہب کی برادری قائم کرنا ہے۔کامل قوت اور کامل طاقت کا مالک مغرب دنیا کو یہ نظام نو دے رہا ہے۔یہ سب کو دعوت دے رہا ہے کہ اس میں سے اپنا حصہ لے لیں بشرطیکہ وہ اس میں حصہ دار ہوں۔اسلام سے ان کو خطرہ یہ ہے کہ یہ خود کفالت کی شیخی بگھارتا ہے اور یہ اقوام عالم میں بشمول مغرب کے جنگل میں آگ کی طرح پھیلتا جارہا ہے۔اسلام کے آغاز تک، عیسائیت کو پہنچ کر نیوالا نسبتا کوئی نہ تھا۔یہ دنیا کے تمام حصوں میں دو 83