سلمان رشدی بھوتوں کے آسیب میں

by Other Authors

Page 71 of 205

سلمان رشدی بھوتوں کے آسیب میں — Page 71

ڈاکٹر ڈینیئل کی کتاب کے متعلقہ حصوں ( صفحات 107-102) کا مطالعہ کر لے۔ڈاکٹر ڈینیئل جب بعض کہانیوں پر اندھا دھند اعتماد کر لیتا ہے تو اس کی منافقت کھل کر سامنے آجاتی ہے۔نبی کریم ﷺ کی موت کو موجب ذلت کہنے کا بڑا مقصد یہ تھا کہ ان پر غیر مقدس صفات کا سیاہ دھبہ لگایا جا سکے۔جیسا کہ ڈاکٹر ڈینیئل لکھتا ہے : " جس طرح اچھی موت نیک ہستی کی نشانی ہوتی ہے اس کے مطابق (اسلام کے ) پیغمبر کو کماحقہ موت آئی، کما حقہ اس رنگ میں کہ وہ وحشتناک موت تھی اور یقینا یوں اس لئے ہوا تا اس کے غیر مقدس ہونے پر مہر ثبت ہو جائے "۔(صفحہ 106) نفس پروری نفس پروری کا جو الزام عائد کیا جاتا ہے اس رخ سے اسلام پر حملے جاری رکھے گئے۔ماضی اور آجکل کے مغربی قاری کیلئے یہ موضوع خاصی دلچسپی کا باعث ہے اتنا کہ ان پر خبط سوار ہو جاتا ہے۔جہاں تک جنس کے بارہ میں اخلاق کا تعلق تھا ڈاکٹر ڈینیل کہتا ہے : " محسوس کیا گیا کہ یہ موضوع دنیائے عیسائیت کی بہبودی کے لئے جس قدر بنیادی تھا اتنا ہی لوگوں کے تخیل کو بھڑ کانے والا بھی تھا۔مسلمانوں کی اخلاقی قیود سے مزعومہ آزادی پر عیسائیوں نے جو تنقید کی اور مبالغہ سے کام لیا اس میں انہوں نے زیادتی کا پہلو اختیار کیا تھا"۔(صفحہ 135) ڈاکٹر ڈینیئل مستشرقین کے حقیقی عزائم کا اعتراف کرتا اور ان مزعومہ حقائق کے مآخذ کا بھی جن کا حوالہ اکثر دیا جاتا ہے۔ان کا منبع بھی ایک ہی مکتب خیال اور علمی تحقیق ہوتا ہے۔" کم و بیش تمام مصنفین کا یہ رجحان رہا ہے کہ وہ اسلام اور اسکے پیغمبر کے بارہ میں خود فرضی کہانیوں کو گلے لگائے رکھیں جیسے وہ ان کی ذاتی ملکیت ہوں۔اور اس طرح کہ وہ عیسائی تصور کے مطابق ہوں۔وہ " حقائق " جن سے اسلام کا جھوٹا ہونا ثابت ہوان کو سب دوسرے حقائق پر ترجیح دی جاتی تھی مشہور عالمانہ اور مقبول عام کتب میں یہی مناظرانہ خاکہ مشترک ہے۔ان کے مقاصد میں نامکمل یگانگت اور اعداد و شمار کے استعمال میں اسی قسم کا انداز پایا جاتا ہے۔فرق صرف یہ ہے کہ کن حدود کے اندر رہ کر ایسے کیا گیا۔جو زیادہ نا قابل یقین تھا اسے مسترد کر دیا جو زیادہ معتبر تھا 71