سلمان رشدی بھوتوں کے آسیب میں — Page 42
تصویر پیش کرنے کی روایت کو جاری رکھتے ہوئے کثیر تعداد میں کتابیں شائع کیں۔چونکہ اس وقت اسلام کی طرف واپس لوٹنے کی تحریک شروع ہو چکی تھی اس سے عیسائی مشنریوں کے عزائم فنح ہو گئے۔پس اسلام ہمیشہ ہی مغربی عیسائی اقوام کی راہ میں رکاوٹ ثابت ہوا ہے۔ان کے تمام دنیا پر غلبہ حاصل کرنے کے منصوبہ میں ہمیشہ خطرہ سمجھا جاتا رہا ہے اور انہوں نے اپنے عزائم کو پورا کرنے میں کوئی کسر نہ چھوڑی۔اسلام کے خلاف نفرت ہندوستان میں بھی عیاں تھی۔برطانوی راج کے دوران یہ بات کھل کر واضح ہوگئی کہ حکمرانوں کو ہندوؤں سے زیادہ انس تھا بجائے مسلمانوں کے جنہیں وہ حقیر خیال کرتے تھے۔اس کی واضح مثال ارل ماؤنٹ بیٹن ہے جو ہندوستان کا آخری وائسرائے تھا۔برطانوی ٹی وی کے چینل فور کے ایک حالیہ پروگرام بعنوان Secret Lives جو 9 مارچ 1995 ء کو دکھایا گیا تھا، مؤرخین اور سوانح نگاروں نے ماؤنٹ بیٹن کی ہندو لیڈر جواہر لال نہرو کی بے جا جانبداری اور محمد علی جناح کے لئے نفرت پر کھل کر اپنی رائے کا اظہار کیا۔مؤرخین نے ماؤنٹ بیٹن پر یہ الزام بھی عائد کیا ہے کہ اس نے ہندؤوں اور مسلمانوں کو خانہ جنگی پر اکسایا تھا جس میں قریب قریب ایک ملین افراد موت کی آغوش میں چلے گئے، ان میں اکثریت مسلمانوں کی تھی۔ہندوستان کی آزادی کے بعد جب وہ انگلستان واپس لوٹا تو ہر کسی نے اس کو ہیرو اور مرد اعظم کے طور پر اس کا استقبال کیا۔ان میں حکمران لیبر پارٹی جس کا سر براہ ایٹلی تھا اور کنز روٹیو پارٹی والے شامل تھے۔ان سب نے مل کر اس کو ہندوستان میں کامیابی حاصل کرنے پر مبارک باد پیش کی۔کیا ایسی خانہ جنگی اکسانے پر جس میں تقریباً ایک ملین لوگ ہلاک ہو گئے ، اسے ہیر وازم کی مثال سمجھا جاسکتا ہے؟ لیکن وہی کچھ ہوا جو اس کے مقدر میں تھا۔کیا یہ نا قابل یقین ستم ظریفی نہیں کہ تقریباً ایک ملین افراد کے قتل عام کے تمہیں سال بعد ارل ماؤنٹ بیٹن خود آئی آراے (IRA) کے بم کا نشانہ بن کر ایک ملین ٹکڑوں میں ریزہ ریزہ ہو گیا۔اس کی وضاحت یوں ہی کی جاسکتی ہے کہ یہ مغرب کے دو بالا تر فرقوں یعنی پروٹسٹنٹ اور رومن کھولک عیسائیوں کے درمیان خانہ جنگی کا نتیجہ تھا۔42