سلمان رشدی بھوتوں کے آسیب میں — Page 40
مضمون وائیٹ کالونیلزم کے ناظمین اور جن ممالک کے عوام پر وہ حکومت کرتے تھے ان کے مابین تعلقات کا دیا نتداری سے تجزیہ ٹامس مرٹن (Thomas Merton) نے ایک 'Cargo Cults of South Pacific میں کیا ہے جو اسکی کتاب میں شامل اشاعت ہے۔وہ کہتا ہے : " ہم اپنے سیاہ فام بھائی کی مدد کے لئے یقیناً تیار ہیں لیکن یہ مدد گستاخی ، شیخنی اور خوشدلی کے رنگ میں کی جاتی ہے۔ہم اس کی مدد اس لئے کرتے ہیں تا وہ ہو بہو ہماری طرح کا ہو جائے جبکہ اس کے لئے ہماری طرح کا ہو جانا ناممکن ہے۔اسطرح ہم اسے ایک پیچیدہ صورتحال میں ڈال دیتے ہیں اور پھر ہم حیران ہوتے ہیں کہ وہ کیونکر روحانی اذیت محسوس کرتا ہے۔یقیناًیہ تو ہمارا بہانہ ہے کہ ہم ہر کسی کو اپنے راز میں حصہ دار بنانا چاہتے ہیں۔جیسی دولت وامارت ہمارے حصہ میں آئی ہے ہم ہر کسی کو اس میں شریک بنا نیکے خواہشمند نہیں ہیں۔لیکن ہم جو کچھ کہتے ہیں اس کا اصل مطلب کچھ اور ہوتا ہے۔ہم اپنے سے کم درجہ لوگوں کو اپنے مفاد کے لئے استعمال کرتے ہیں۔ہم ان میں اپنا مفاد کچھ اس طور پر ودیعت کرتے ہیں کہ غیر ترقی یافتہ ممالک ہماری ماتحتی میں آج بھی مصروف عمل ہیں۔" (Merton, Love & Living, Bantam Books, New York, 1980, p77) جہاں تک مادی طاقت کا تعلق ہے اہل مغرب کا یہ غرور جو پورے عروج کو پہنچ چکا تھا اس کے بارہ میں چودہ سو سال قبل قرآن مجید میں اللہ قادر مطلق نے سورۃ الکھف (36-18:35) میں قبل از قت اطلاع دے دی تھی۔اس میں اللہ تعالی نے دو بڑی قوموں یعنی اہل نصاری اور مسلمانوں کی حالت کو تمثیلی رنگ میں پیش کیا ہے: وَكَانَ لَهُ ثَمَرٌ ۚ فَقَالَ لِصَاحِبِهِ وَهُوَ يُحَاوِرُةٌ اَنَا اَكْثَرُ مِنْكَ مَا لَا وَّ أَعَزُّ نَفَراً۔وَدَخَلَ جَنَّتَهُ وَهُوَ ظَالِمٌ لِنَفْسِهِ قَالَ مَا أَظُنُّ أَنْ تَبِيْدَهذِهِ اَبَداً - (ترجمہ) ” اور اس کے بہت پھل (والے باغ) تھے۔پس اُس نے اپنے ساتھی سے جب کہ وہ اس سے گفتگو کر رہا تھا کہا کہ میں تجھ سے مال میں زیادہ اور جتھے میں قوی تر ہوں۔اور وہ اپنے باغ میں اس حال میں داخل ہوا کہ وہ اپنے نفس پر ظلم کرنے والا تھا۔اس نے کہا میں تو یہ خیال بھی نہیں کر سکتا کہ یہ بھی برباد ہو جائیگا۔40