سلمان رشدی بھوتوں کے آسیب میں — Page 39
نفس پرست فرد کی حیثیت سے دیکھا جائے جو ہر قسم کی بدی اور جرم میں لت پت ہے۔II (Rodinson, Mohammmed, pp 301/302) کوئی صاحب عقل سلیم ایسی باتوں کو بمشکل ہی باور کرے گا۔کالونیلزم اور عیسائیت یورپین خصوصاً برطانوی، فرانسیسی اور ولندیزیوں نے تین سے چار سو سال کے عرصہ میں ایشیائی اور افریقن بر اعظموں پر پہلے تجارت کے ذریعہ پھر حد درجہ کے سیاسی دباؤ کے ذریعہ اور بالآخر اقتصادی نظام نو آبادیات کے ذریعہ اپنی طاقت کا تسلط جمائے رکھا۔ان تغیر پذیر حالات میں اور عیسائی مشنریوں کی طرف سے تسلط جمانے کی کوششوں میں چولی دامن کا ساتھ ہے جنہوں نے مقامی باشندوں پر عیسائیت ٹھونس دی۔یورپین کا لونیلزم مقامی عوام پر انتہائی ناگوارگزری۔حکمراں طبقہ نے ان مقامی باشندوں پر اپنی فوقیت کا بر ملا اظہار کیا جسے تسلیم کرنے میں مغربی مصنفین کو کوئی جھجک محسوس نہیں ہوتی۔اس کی مثال ہمیں اے جے بالفور (A۔J۔Balfour ) اور لارڈ کرومر (Lord Cromer) کی تقاریر اور تصانیف میں مل جاتی ہے جن میں 1910ء کے لگ بھگ مصر پر برطانوی تسلط کے بارہ میں ذکر پایا جاتا ہے۔انہوں نے برطانوی فوقیت کا ہونا بغیر سوال اٹھائے فرض کر لیا اور مشرق کی ہر قسم کی کمزوریوں کو ضرورت سے زیادہ رنگ میں بیان کیا جیسے خود حکمرانی کی گنجائش نہ رکھنا، معاشرتی اور اخلاقی گراؤ منطقی طور پر سوچ بچار کر سکنے کی عدم قابلیت ہونا وغیرہ۔کالونیاں بنانے والوں نے یقیناً اپنے محکوموں سے کم ہمدردی کا سلوک کیا ان توقعات کے برعکس جو ایسے لوگوں سے ہو سکتی ہیں جن کا دھرم انسانی شرافت کی تکریم کا پر چار کرتا تھا۔یہ سچ ہے کہ یورپین مادی طور پر فوقیت رکھتے تھے اور باقی ماندہ دنیا ان کے اعلیٰ نظام تعلیم اور نظام حکومت سے نفع اٹھا رہی تھی لیکن اس چیز کا افسوس ناک پہلو یہ ہے کہ انہوں نے اس قسم کے تفوق کو اخلاقی تفوق سے الجھا دیا جس کے نتیجہ میں وہ اہل مشرق اور افریقہ کو اخلاقی لحاظ سے کمتر انسان سمجھنے لگے۔ان کے نزدیک ایسے لوگوں کو عیسائیت کے ذریعہ حقیقی روشنی کی طرف رہ نمائی کی اشد ضرورت تھی۔بلکہ اس پر حد لگا دی تا کہ اس سے آگے کوئی سوچ ہی نہ سکے۔39