سلمان رشدی بھوتوں کے آسیب میں — Page 189
کے جو اشاعت کے مرحلہ تک نہ پہنچ سکیں، مجھے یاد ہے میں نے یہ سوچنا شروع کیا کہ بہتری اسی میں ہے کہ یا تو ہار مان لوں یا پھر اس سے رجعت پسندانہ یا مڈل آف دی روڈ یا ایسی چیز جس میں خطرہ زیادہ نہ ہو یعنی آپ جانتے ہی ہیں کہ اس سے کم ترین کام کروں۔یا پھر اگر ہمت ہے تو اس سے بڑا خطرہ مول لوں۔تا کہ اگر کشتی ڈوبنے ہی لگی ہے تو پھر شعلوں کی زد میں بھسم ہو جاؤں۔مجھے خوب یاد ہے میں نے فیصلہ کیا کہ میں یہی کروں گا کیونکہ میں اس کے علاوہ اس سے زیادہ کسی خطر ناک چیز کا سوچ نہیں سکتا تھا۔اور ہاں اس فیصلہ کے پہنچنے پر مجھے عرصہ لگ گیا"۔یہی درحقیقت اس کے 'The Stanic Verses ' لکھنے کی اصل وجہ تھی۔باقی کا معاملہ جیسا کہ کہتے ہیں تاریخ کا حصہ بن چکا ہے۔رشدیوں کی نئی نسل اس حقیقت کو کوئی جھٹلا نہیں سکتا کہ 'ادی سٹینک ورسز' کے واقعہ نے مزید رشدیوں کی نسل کو جنم دیا جو سیاسی اور فلمی دنیا سے اغلام بازوں اور ہم جنس پسندوں کی طرح پبلک میں آنا شروع ہو گئے۔آیا یہ نئے رشدی اصلی رشدی کی حمایت میں آئے تھے یا یہ کہ رشدی کی طرح ان طاقتوں کے زیر اثر سامنے آئے تھے جن کی طرف میں نے اشارہ کیا ہے۔امر واقعہ یہ ہے کہ یہ تمام کوششیں اس لئے کی گئیں تاکسی ہنگامے کا سامان پیدا کیا جائے تا اسلام اور مغرب کے درمیان خلیج پہلے سے وسیع تر ہو جائے۔اسی ذہنیت کے چنداد ییوں کا ذکر یہاں کیا جاتا ہے۔ارشاد مانجی یوگنڈا میں پیدا ہونے والی ایشین ہے جو کینیڈا ہجرت کر گئی۔اس نے 216 لکھی جو صفحات پر مشتمل کتاب ( دی ٹربل و د اسلام The Trouble With Islam نبی پاک آنحضور ﷺ کے خلاف بہتانوں کا انبار ہے۔مانجی جس نے خود اپنے الیز بین ہونے کا اعتراف کیا ہے وہ پوری دنیا میں اس موضوع پر لیکچر دے رہی ہے کہ اسلام میں کس طرح آزاد پسندی لائی جائے۔اس کے سامعین میں ایمنسٹی انٹرنیشنل، یونائیٹڈ نیشن پریس کارپس نیشنل کمیٹی آن امریکن فارن پالیسی، انٹر نیشنل وویمن فورم، سویڈش ڈیفینس ریسرچ ایجنسی، دی پینٹا گون ، جین جیکسن روسو انسٹی ٹیوٹ، کیمبرج اور نوٹر ڈیم یو نیورسٹیاں شامل ہیں۔189