سلمان رشدی بھوتوں کے آسیب میں

by Other Authors

Page 178 of 205

سلمان رشدی بھوتوں کے آسیب میں — Page 178

ناراضگی مول لی گئی۔ٹھا کرے کے حمایتیوں نے کہا کہ وہ کتاب کا نام ونشان مٹادیں گے اور جو کوئی اس کو فروخت کر نیکی جرات کرے گا اس کو جان کے لالے پڑ جائیں گے۔اس ناول سے وہی پرانا فتنہ کھڑا ہو گیا جوادی سٹینک ورسزا کی بازگشت ہے۔پشیمانگی کی بات یہ ہے کہ بال ٹھا کرے ہندوستان کا ایسا معروف شخص تھا جس نے رشدی کی ادی سٹینک ورسز' کی اشاعت پر حمایت کی تھی۔اس وقت ٹھاکرے نے ہندوستان میں کتاب کے ضبط کئے جانے کی مذمت کی اور کہا تھا: آزادی تقریر کسی مذہبی گروہ کے جذبات سے زیادہ اہم ہے" (The Times, September 03, 1995) آزادی تقریر کے اصول کو انسان کتنی آسانی سے فراموش کر دیتا ہے جب انسان کسی قلم کار کے زہر یلے قلم کا خود نشانہ بن جاتا ہے۔یہ امر اور بھی تکلیف دہ ہے جب انسان سوچتا ہے کہ ایک شخص اسی ادیب کا دوسری کتاب لکھنے پر حمایتی تھا جس سے مصنف کی زندگی خطرے میں پڑ گئی تھی۔لیکن انسان ایسے مصنف کے دوغلے کردار کا سوچ کر ذرا بھی دنگ نہیں ہوتا جو ہر قسم کے اخلاقی اصولوں کو بالائے طاق رکھ کر صرف اپنے مفادات کو بچانے کیلئے کوشاں تھا۔رشدی کیلئے نوبل پرائز رشدی کو ایک بار پھر سے ہلچل اور ہیجان پیدا کرنے پر ایک اور بوکر پرائز ملنا تھا جس کا وہ ادبی نقادوں کے نزدیک زیادہ اہل تھا۔واٹر سٹون میگزین کے اینڈی ملر ( Andy Miller) کے نزدیک " بوکر پرائز اس نے شرطیہ جیت لینا ہے "۔لیکن The Times کے گائی والٹرز (Guy Walters) نے اس خدشہ کے پیش نظر کہ اس کو تیسرا بوکر پرائز ملنے والا تھا رشدی کا رتبہ بڑھا چڑھا کر پیش کیا : " ایک دفعہ بوکر پرائز حاصل کرنا شاید چالا کی سمجھا جائے ، دو بار جیتنا نہایت ذہین ہونا قرار پائے اور تین بار جیتنا دیوتا ہونے کے مساوی ہوگا"۔(The Times, October 05, 1995) رشدی کو 1994ء میں انٹر نیشنل پارلیمنٹ آف رائٹرز کا صدر چنا گیا۔یہ بین الاقوامی اعزاز اس کو کثیر تعداد میں پہلے سے ملنے والے اعزازات و تمغوں میں اضافہ تھا۔تیسرے بوکر پرائز ملنے کے بعد اس سے اگلا مرحلہ رشدی کی شہرت کو بام عروج تک پہنچنے میں لٹریری فکشن میں نوبل 178)