سلمان رشدی بھوتوں کے آسیب میں

by Other Authors

Page 156 of 205

سلمان رشدی بھوتوں کے آسیب میں — Page 156

آخر کار کلنٹن رشدی سے نومبر 1993ء میں وائٹ ہاؤس میں ملاقات کیلئے تیار ہو گیا۔اس ملاقات پر دی ٹائمز کے الیکڈ انڈر چانسلر کی رائے یہ تھی : " ایک ایسی زبر دست اہمیت کی ملاقات جو شاید رشدی پر ابتلاء کے اختتام کا آغاز ثابت ہوا"۔چانسلر کے خیال میں ایسا اس حقیقت کے باوجود کیا گیا کہ " جس سے اسلامی دنیا مشتعل ہو جائے "۔(The Times, December 04, 1993) اور یہی فیصلہ کن دستی نقطہ ہے۔رشدی کے حمایتیوں اور مجرم ساتھیوں کے کانوں پر جوں تک نہ رینگی کہ انہوں نے کروڑوں مسلمانوں کے جذبات کو مجروح کیا ہے۔اس چیز کو بہت اہمیت دی گئی یعنی ایک شخص کی آزادی تقریر کے حق کو جس نے جان بوجھ کر اور بدطینتی سے کروڑوں مسلمانوں کے جذبات کو ٹھیس پہنچائی تھی۔ایک ایسا ہی اور کیس بنگلہ دیش کی رائیٹر تسلیمہ نسرین کا ہے جس نے یہ کہہ کر مسلمانوں کے غضب کو مزید بھڑکا دیا کہ "قرآن پر مکمل طور پر نظر ثانی کی ضرورت ہے "۔"جب بنگلہ دیشی حکومت نے اس کی گرفتاری کا حکم جاری کیا کہ اس نے دینی جذبات کو مجروح کیا ہے اور مسلمان تشدد پسندوں نے اس کو قتل کی دھمکیاں دیں تو وہ 4 جون 1993ء کو روپوش ہوگئی"۔(The Times, July 14, 1993) شاید وہ جلا وطنوں کے غیر تحریری مجموعہ قوانین کا پابند تھا کہ رشدی کو مجبور کیا گیا کہ وہ تسلیمہ نسرین کیلئے حمایتی اکٹھے کرے۔اس نے اپنے لئے دنیا بھر میں حمایتی پیدا کر کے کافی اثر ورسوخ پیدا کر لیا تھا اب اس نے یہ اثر و رسوخ دو مقاصد کیلئے استعمال کیا۔اول تو اس نے نسرین کی ناگوار صورت حال کو اچھالا کیونکہ جتنے تعداد میں زیادہ ہوں گے اتنا ہی اچھا ہو گا۔دوسرے اس کی یہ نیک کوشش اس کو خود ہتھیاروں سے لیس جوانمرد بنادے گی ضمنی فائدہ یہ کہ ان عیار اوصاف کے ساتھ مسٹر رشدی بحیثیت سیاست دان بھی چمک اٹھے گا۔کچھ بھی ہو حقیقت یہی ہے کہ رشدی ایک مطلوبہ مجرم ہے اور بعض نے اس کو تاحیات ادیبوں میں سے مشہور ترین ادیب قرار دیا ہے ( یا شاید بدنام ترین کہنا مناسب ہوگا )۔اس کیلئے ہمیں ایرانی فتویٰ کا ممنون ہونا چاہئے جو The Stanic Verses کی اشاعت کے بعد اس پر لاگو ہوا تھا۔کیا یہ سب کچھ ارادی طور پر کیا گیا تھا یا کہ ایک منصوبہ بندی کے مطابق تھا جو بری 156