سلمان رشدی بھوتوں کے آسیب میں

by Other Authors

Page 147 of 205

سلمان رشدی بھوتوں کے آسیب میں — Page 147

پندرھواں باب رشدی کے خلاف فتویٰ اور مغربی ذرائع ابلاغ رشدی کے خلاف جاری ہو نیوالے فتویٰ کی پوری دنیا میں مذمت کی گئی اور یہ مناسب بھی تھا۔ایران کے لیڈر آیت اللہ خمینی نے اس فتویٰ کے جاری کرنے کی اتھارٹی اپنے آپ ہی سے حاصل کی تھی نہ کہ قرآن سے۔لیکن ذرائع ابلاغ کا رویہ اس بارہ میں بہت ہی تباہ کن رہا۔اس مسئلہ کو اس رنگ میں پیش کیا گیا جس سے سادہ لوح مسلمان یہ تاثر محسوس کرنے لگے کہ مغرب کے تہذیب یافتہ معاشروں کے برعکس اسلام آزادی تقریر کی اجازت نہیں دیتا اور یہ کہ اسلام کے قوانین عہد وسطیٰ کے دور سے تعلق رکھتے اور آج کے دور میں ان کیلئے کوئی جگہ نہیں ہے۔برطانیہ کے اخبار The Independent' کے اور یہ میں فتویٰ کو پرانے زمانے کا اور عہد وسطی کے دور کا حکم قرار دیا گیا ( 15 فروری 1989 ء )۔اس مضمون میں یہ بھی تجویز کیا گیا کہ اسلام کے مقابلہ میں عیسائیت ہتک خد اور سول کے قانون کے معاملہ میں وقت گزرنے کے ساتھ زیادہ روادار ہوگئی ہے اسلام کو بھی ایسا ہی کرنا چاہئے۔پھر مضمون یوں ختم ہوتا ہے : " ایک ملٹی کلچرل سوسائٹی ( یعنی کہ برطانیہ) کو ان کے موقوف کر دینے کا سوچنا چاہئے نہ کہ ہتک خدا و رسول کے قوانین کو مزید جاری رکھنے کا "۔میرے خیال میں چونکہ عیسائی اس بات کو سنجیدگی سے نہیں لیتے اس کا مطلب یہ نہیں کہ مسلمانوں کو بھی ایسا ہی کرنا چاہئے۔اخبار دی ٹائمز کے مذہبی امور کے ایڈیٹر، کلفر ڈلانگ لی (Clifford Longley ) نے اپنے مضمون 15 فروری 1989 ء میں فتویٰ کے عہد وسطیٰ کے دور سے تعلق رکھنے کے دعوی کو دہرایا : " بیسویں صدی میں اسلام کے نظریات، تیرھویں اور چودھویں صدی کی عیسائیت سے زیادہ مختلف نہیں"۔اخبارات کی اکثریت نے برطانیہ میں مقیم تشدد پسندوں کے نظریات پر زیادہ توجہ مرکوز کی 147