حضرت سیدہ صالحہ بیگم صاحبہؓ

by Other Authors

Page 33 of 41

حضرت سیدہ صالحہ بیگم صاحبہؓ — Page 33

33 33 لجنہ اماءاللہ پاکستان کے طور پر بھی خدمت کی۔پاکستان بننے سے پہلے 1946 ء کے الیکشن میں عورتوں کے ووٹوں کے سلسلے میں سارا کام اُن کے گھر ہوتا تھا جہاں تمام کارکنات کے کھانے پینے کا بہت خیال رکھتی تھیں۔(14) پاکستان بننے کے بعد لجنہ کے کاموں میں دلچسپی سے حصہ لیتی رہیں۔قرآن مجید ناظرہ و ترجمہ بیسیوں بچوں نے آپ سے پڑھا۔جماعتی ذمہ داریوں کے علاوہ اپنے شوہر حضرت مرزا عزیز احمد صاحب کی پہلی اولاد کے ساتھ حسنِ سلوک اور محبت بھی آپ کی والدہ کی نیک تربیت تھی۔خود سید وصالحہ بیگم صاحبہ کا سلوک بھی ان بچوں کے ساتھ اپنے نواسے نواسیوں سے کم نہیں، بلکہ کچھ بڑھ کر ہی تھا۔اسی طرح آپ کی دوسری بیٹی سیدہ نصرت صاحبہ اہلیہ ملک عمر علی صاحب نے شوہر کی دوسری بیویوں کی اولاد سے اس قدر محبت اور شفقت کا سلوک رکھا کہ کوئی دیکھنے والا یہ اندازہ نہیں کر سکتا کہ یہ بچے ان کے بطن سے نہیں ہیں۔آپ بھی ہمیشہ لجنہ کی خدمات سرانجام دیتی رہیں۔آپ کی تیسری بیٹی سیدہ بشری بیگم صاحبہ کو بھی خدا تعالیٰ نے جماعت کی خدمت کا موقع دیا۔اور آپ نے ساری زندگی ، شادی سے پہلے، چھوٹے چھوٹے بچوں کے ساتھ ، گھر کو احسن طریق پر چلاتے ہوئے، ہمیشہ خدمتِ دین کی۔سترہ سال تک آپ لجنہ اماءاللہ لاہور کی صدرر ہیں۔اس سے پہلے پشاور میں قیام کے دوران بھی آپ صدر لجنہ اماءاللہ پشاور ر ہیں۔