حضرت سیدہ صالحہ بیگم صاحبہؓ — Page 14
14 اس لئے حضرت خلیفۃ المسیح الثانی کی خواہش اور ہدایت کے مطابق جماعت نے کوشش کی۔پھر قادیان اور اس کے اردگرد کے دیہات میں کوشش کی گئی کہ کوئی بڑی عمر کی عورت ایسی نہ رہ جائے جو لکھنا پڑھنا نہ جانتی ہو اور ووٹ دینے سے رہ جائے اس اہم اور مشکل کام کی انچارج حضرت سیدہ ام داؤد صاحبہ مقرر ہوئیں۔ایسی دیہاتی عورتوں کو پڑھنا لکھنا سکھانا کوئی آسان کام نہ تھا۔اس کے لئے آپ نے بہت کوشش کی اور نہایت اچھا پروگرام بنایا، اپنی خاص توجہ سے قادیان کے قریب گاؤں قادر آباد، احمد آباد ، بھینی خورد و کلاں اور دونوں جنگل پر دی۔آپ نے بہت ہی توجہ محنت لگن اور جذبہ سے اس کام کو کیا اور تھوڑے ہی عرصہ میں عورتوں کو اردو پڑھنا لکھنا، 100 تک گفتی لکھنا اور اپنے دستخط کرنا سکھا دیئے۔سوائے معذوروں کے کوئی بھی عورت ایسی نہ رہی جو ووٹ نہ دے سکتی ہو۔1946 ء فروری کے خطبہ جمعہ میں حضرت خلیفتہ امی الثانی نے اس کام پر خوش ہوکر فرمایا:۔”مردوں کے مقابلہ میں عورتوں نے قربانی کا نہایت اعلیٰ نمونہ پیش کیا ہے گو حساب نہ جاننے کی وجہ سے بعض غلطیاں ان سے ہوئیں لیکن ان کا مجھے وقت پر پتہ لگ گیا۔اور میں نے ان غلطیوں کو دور کرنے کی ہدایات دے دیں۔جن کے مطابق انہوں نے نہایت تندہی اور محنت سے کام کیا۔میں سمجھتا