حضرت سیدہ صالحہ بیگم صاحبہؓ — Page 13
13 دسمبر 1922ء میں حضرت خلیفہ اسیح الثانی نے احمدی مستورات کی ایک عالمگیر تعظیم لجنہ اماءاللہ کی بنیاد رکھی پہلے دن چودہ مہرات اس کی ممبر بنیں جن میں ساتویں نمبر پر حضرت سیدہ ام داؤد کا نام ہے اور پھر ساری زندگی آپ نے لجنہ اماءاللہ کا کام بڑے شوق جذ بہ اور ولولہ سے کیا اور ہمت ، خلوص، محبت اور ذمہ داری سے کام کرنے والی عہد یدار تھیں۔(3) حضرت سیدہ امتہ الحی صاحبہ مرحومہ اہلیہ حضرت خلیفۃ المسیح الثانی کو خلیفۃالمسیح لجنہ اماء اللہ کی سب سے پہلی جنرل سیکرٹری ہونے کا اعزاز حاصل ہے آپ کی پرسیده ام داؤد کو کچھ عرصہ تک بطور جنرل سیکرٹری لجنہ اماء اللہ کی خدمات بجالانے کی سعادت حاصل ہوئی۔بعد میں نائبہ جنرل سیکرٹری کے طور پر تقرر ہوا۔حضرت سیدہ امتہ الئی بیگم صاحبہ کی وفات پر آپ کی یادگار امتہ الھی لائبریری قائم کرنے کی تحریک و تجویز حضرت سیدہ ام داؤد صاحبہ کی طرف سے پیش کی گئی تھی۔اس سے پتہ چلتا ہے کہ آپ کو علم سے کتنی محبت تھی۔اس وقت سے اب تک بے شمار عورتوں اور لڑکیوں نے اس لائبریری سے فائدہ وفات اُٹھایا ہوگا اور اُٹھاتی رہیں گی۔1946ء میں انڈیا میں الیکشن ہونا تھے۔جس میں ہر بالغ پڑھا ہوا فرد ووٹ دینے کا حق رکھتا تھا۔ووٹ ڈالنے والوں کی فہرستیں تیار کرنے کا کام 1945ء میں شروع ہوا۔یہ الیکشن مسلمانوں کیلئے سیاسی لحاظ سے بہت اہم تھے