حضرت سیدہ صالحہ بیگم صاحبہؓ — Page 4
کے گھر میں ہی لینے کا فیصلہ کیا۔حضرت مسیح موعود علیہ اسلام حضرت صوفی احمد جان صاحب کے متعلق تحریر فرماتے ہیں کہ : ” آپ نہایت خوبصورت ، خوب سیرت ، صاف باطن انسان تھے۔آپ مجھ سے بہت محبت اور دوستی کا تعلق رکھتے تھے۔دل و جان سے اور مال سے ہر وقت مدد کرنے کو تیار رہتے تھے۔آپ کا علم بہت زیادہ تھا۔تقریر بھی بہت اچھی کر لیتے تھے۔اکثر اُن کے مریدوں نے ان کو سمجھایا کہ آپ تو خود بہت بڑے بزرگ ہیں اگر آپ کسی کی بیعت کرتے ہیں تو یہ آپ کی شان کے خلاف ہے لیکن آپ نے جواب دیا کہ مجھے کسی شان کی ضرورت نہیں۔آپ نے جو عہد کیا اُسے آخر تک نبھایا اور اپنی اولاد کو بھی اس کی تلقین کی۔" جن 313 ساتھیوں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ہاتھ پر بیعت کی ، ان میں حضرت صوفی احمد جان صاحب اور آپ کے دونوں صاحبزادے (حضرت پیر محمد منظور ، حضرت پیر افتخار احمد ) بھی شامل تھے۔آپ کی اولاد سے حضور بہت محبت سے پیش آتے اور اُن کا خاص خیال فرمایا کرتے تھے۔چنانچہ جب حضرت پیر محمد منظور صاحب لدھیانہ سے ہجرت کر کے قادیان آئے تو حضور نے انہیں دار امسیح میں جگہ عنایت فرمائی اور حضرت مولوی نورالدین صاحب کے گھر کے ساتھ ہی کمرے دیئے گئے اور یہ خاندان بھی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی محبت و شفقت سے حصہ پانے لگا۔حضرت خلیفہ امسیح الاوّل کی بیوی