حضرت سیدہ صالحہ بیگم صاحبہؓ

by Other Authors

Page 26 of 41

حضرت سیدہ صالحہ بیگم صاحبہؓ — Page 26

26 دی۔آپ نے ہر رنگ میں حوصلہ دیا کہ تقریر ضرور کرو۔انہوں نے عرض کیا کہ میں تو اگر کلاس میں کسی کو ڈانٹنا چاہوں تو ایک آدھ فقرہ کہہ کر سوچتی ہوں کہ آگے کیا کہوں اس پر آپ بننے لگیں۔تقریر کی مشق کرنے کے لئے لڑکیوں کو ایک گھر میں جمع کیا باری باری لڑکیوں نے بولنا تھا۔محترمہ حمیدہ صابرہ صاحبہ کہتی ہیں کہ : ” میں کھڑی ہوئی تو دو جملے بول کر ہنسنا شروع کر دیا۔میری اس حرکت پر سب خوب ہنسے حضرت سیدہ ام داؤد صاحبہ بھی مسکراتی اور ہنستی رہیں لیکن جب دو چار مرتبہ یہی حرکت کی تو آپ نے فرمایا حمیدہ! اب یہ حرکت چھوڑ و اور سنجیدگی سے بولو۔“ آپ انہیں حوصلہ اور ہمت دلاتی رہیں۔آپ کی تربیت کی بدولت آپ کی خواہش پر 1951ء میں جلسہ سالانہ کے موقع پر زنانہ جلسہ گاہ میں محترمہ حمیدہ صابرہ صاحبہ نے 'برکات الدعا کے موضوع پر تقریر کی۔آپ اس وقت جلسہ گاہ میں موجود نہ تھیں دوسروں سے سن کر حوصلہ افزائی کرتے ہوئے فرمایا حمیدہ ! مجھے بہت خوشی ہوئی سب کہتے ہیں تم اچھا بولی ہو۔حضرت میر محمد اسحق صاحب مدرسہ احمدیہ کے ہیڈ ماسٹر اور دار الشیوخ (جہاں یتیم بچے رہتے تھے ) کے نگران اعلیٰ اور ناظر ضیافت تھے۔یتیم بچوں کی خدمت و امداد کا آپ کو خاص خیال رہتا۔محترمہ ام داؤد صاحبہ ان کی تعلیم و تربیت کے لئے اپنے قابل احترام شوہر کے ساتھ تعاون کر کے بے حد خوشی