حضرت سیدہ صالحہ بیگم صاحبہؓ

by Other Authors

Page 28 of 41

حضرت سیدہ صالحہ بیگم صاحبہؓ — Page 28

28 پر ایک طائرانہ نگاہ ڈالتا ہوں تو بے اختیار سوچنے پر مجبور ہوجاتا ہوں کہ اگر اس اعلیٰ نمونہ کو مشعلِ راہ بناتے ہوئے ہماری ” پچاس فیصدی عورتوں کی اصلاح ہو جائے تو یقیناً خدا کے اس وعدے کے ایفاء کا وقت آجائے جس سے احمدیت کی ترقی کی تقدیر وابستہ ہے۔کاش ایسا ہی ہو اور جلد ہو کہ یہ مشعلیں دنیا میں بار بار نہیں آتیں۔آخر پر میں اتنا کہے بغیر رہ نہیں سکتا کہ یہ آپ ہی کی تربیت کے طفیل تھا کہ آپ کی بیماری کے ایام میں آپ کی تمام اولاد نے آپ کی ایسی فدایانہ خدمت سر انجام دی ہے کہ حق تو یہ ہے کہ حق ادا کر دیا۔انہوں نے راتیں آنکھوں میں کائیں اور دن ہئی (چار پائی کا کنارہ) سے لگ کر اور انتہائی پٹی پٹی مشکلوں اور تفکرات میں سے گذر کر آپ کیلئے ہر آن سکون و طمانیت کے متلاشی رہے۔یقیناً خوش بخت ہے وہ ماں جسے ایسی محبت کرنے والی اولاد میسر ہو۔مگر کیا ہی خوش نصیب ہے وہ اولاد جسے ایسی اچھی ماں کی خدمت کا موقع مل جائے۔“ (12) حضرت سیدہ ائتم داؤد کے سب بچوں کو ہی اللہ کے فضل سے خدمت دین کی توفیق علی الحمد لله على ذالک۔ان کے ایک بیٹے حضرت میر داؤ داحمد صاحب جو پرنسپل جامعہ احمدیہ تھے۔دو صاحبزادیاں حضرت سید ہ نصیرہ بیگم صاحبہ، بیگم مرزا عزیز احمد صاحب اور سیدہ نصرت بیگم صاحبہ بیگم ملک عمر علی صاحب کھوکھر