حضرت سیدہ صالحہ بیگم صاحبہؓ — Page 17
17 1948ء میں رمضان المبارک میں لجنہ اماء اللہ نے حضور کی اجازت سے عورتوں اور لڑکیوں کی ایک تعلیم القرآن کلاس لگائی۔جس میں لاہور میں رہنے والی لڑکیوں کے علاوہ لاہور سے باہر کی لجنات سے بھی لڑکیاں شامل ہوئیں۔جو رتن باغ میں آکر ٹھہریں۔کھانا لنگر خانہ سے ملتا تھا۔لڑکیوں کی دیکھ بھال اور تربیت کے لئے محترمہ شوکت سلطانہ صاحبہ محترمہ امته اللطیف صاحبه بیگمات حضرت ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحب اور حضرت سیدہ ام داؤد صاحبہ مقرر تھیں۔آپ نے بہت محبت سے ان طالبات کی دلچسپیوں تک کا خیال رکھا۔لڑکیاں آپ سے گھل مل گئیں اور بہت خوش رہیں۔کلاس لگانے کا کام حضرت چھوٹی آیا حرم حضرت خلیفہ ابیع الثانی کی دلچسپی لینے کی وجہ سے جاری رہا۔(1) انہیں دنوں جماعت احمدیہ کے نوجوان فرقان فورس کے نام سے پاکستانی فوج کے ساتھ محاذ کشمیر پر مقابلہ کر رہے تھے۔ان کی وردیوں اور جرابوں کی مرمت نیز دیگر سامان کی تیاری کا کام لجنہ اماءاللہ کے سپر د ہوا۔جس کی نگران حضرت سیدہ ام داؤد صاحب تھیں۔آپ نے احمدی عورتوں کو احساس دلایا کہ خدا نے صرف اپنے فضل سے ہمیں ایک موقع دیا ہے کہ ہم ان صحابیات کے نقش قدم پر چلنے کی کوشش کریں جو رسول کریم ﷺ کے زمانہ میں دشمنوں کے حملوں کے وقت میدان جنگ میں خدمات بجالاتی تھیں۔آپ کی ان محبت بھری نصیحتوں سے متاثر ہو کر قادیان اور لاہور کی عورتوں نے تین ماہ تک اس