حضرت سیدہ صالحہ بیگم صاحبہؓ — Page 18
18 خدمت کو سرانجام دیا۔ان دنوں میں لجنہ اماء اللہ قادیان کا مرکز رتن باغ و سرانجام دیا۔ان وا لاہور میں تھا۔حضرت سیدہ ام داؤد صاحبہ رتن باغ میں ہی رہائش رکھتی تھیں۔روزانہ صبح نو بجے سے شام چھ بجے تک یہ کام کیا جاتا تھا۔آپ ہر کام اپنی نگرانی میں کرواتی تھیں۔وردیاں خدام الاحمدیہ مرکز یہ مہیا کرتی تھی۔وردیوں کی مرمت ، صفائی، بٹن لگانا، کاج درست کرنا حسب ضرورت پیوند لگانا یہ سب کام عور تیں کرتی تھیں۔ہر قمیض پر دو بیج لگانے ہوتے تھے جو خود ہی تیار کئے جاتے تھے۔ممبرات لجنہ اماءاللہ لاہور نے خاکی زین (ایک موٹا کپڑا ہوتا ہے ) کے پانچ سو بٹوے تیار کئے تھے۔جن میں فوری ضرورت کی چھوٹی چھوٹی چیزیں رکھی جاتیں۔جو مجاہدین کے کام آتی تھیں۔حضرت سید وام دا ؤ ر صاحبہ کی محبت اور تربیت نے مستورات میں ایک نئی روح پھونک دی۔یہ سارا کام بہت بے تکلفی اور پیار کے ساتھ ہوتا تھا اور سب خوش ہو کر اس کام کو کرتے تھے۔(1) پاکستان بننے کے بعد جماعت کے تمام لوگ لاہور آکر رتن باغ اور اس کے ساتھ عمارتوں میں رہنے لگے۔درویشان قادیان اور مبلغین کے بیوی بچے جو قادیان سے بغیر سامان کے خالی ہاتھ لاہور پہنچے تھے حضور نے ان پر خاص محبت اور شفقت کرتے ہوئے انہیں ان عمارتوں میں ٹھہرایا تھا۔یہ لوگ اکتوبر 1947 ء سے اپریل 1950 تک حضرت مصلح موعود کی نگرانی اور سر پرستی کا لطف اٹھاتے ہوئے یہاں رہتے رہے۔ان میں کچھ بے سہارا اور معذور