سیر روحانی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 72 of 900

سیر روحانی — Page 72

۷۲ تھا۔پس آپ نے اپنے عمل سے انہیں زبر دست شکست دی اور بتایا کہ تم تو کہتے تھے میں فلاں وقت بیمار ہو جاؤں گا مگر میں نے اسی وقت تمہارے بچوں کے ناک کاٹ ڈالے ہیں۔حضرت ابراہیم علیہ السلام کے ذریعہ جب ان کی قوم کو یہ خطرناک زک پہنچی تو اس کے بعد آپ نے سمجھا کہ اب اس عملی زک کے نتیجہ میں لوگوں کے دلوں میں ایسا بغض بیٹھ گیا ہے کہ میرا یہاں رہنا ٹھیک نہیں چنانچہ وہ اس علاقہ کو چھوڑ کر کسی دوسرے علاقہ کی طرف ہجرت کر کے چلے گئے۔پھر میں نے کہا کہ اچھا جو حصہ حساب و تاریخ کا رہ گیا ہے اس کے متعلق مجھے اس رصد گاہ سے کیا اطلاع ملتی ہے جب میرے دل میں یہ سوال پیدا ہوا تو مجھے اس کے متعلق یہ اطلاعات ملیں۔سورج، چاند اور ستارے سب انسان اول : سورج اور چاند اور ستارے سب اپنی ذات میں مقصود نہیں بلکہ یہ سب ایک اعلیٰ ہستی کی کی خدمت کیلئے پیدا کئے گئے ہیں کے کام اور فائدہ کے لئے بنائے گئے ہیں اور وہ اعلیٰ ہستی انسان ہے چنانچہ اللہ تعالیٰ سور نچل میں فرماتا ہے۔وَسَخَّرَ لَكُمُ اللَّيْلَ وَالنَّهَارَ وَالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ وَالنُّجُومُ مُسَخَّرات بِأَمْرِهِ إِنَّ فِي ذَلِكَ لَآيَتٍ لِقَوْمٍ يَعْقِلُونَ " کہ اے بیوقوف انسان! تو خواہ مخواہ سورج، چاند اور ستاروں کی طرف دوڑ رہا ہے کیا تجھے معلوم نہیں کہ یہ رات دن سورج ، چاند اور ستارے سب تیری خدمت کے لئے پیدا کئے گئے ہیں مگر حیرت اور تعجب کی بات ہے کہ جسے ہم نے خادم قرار دیا تھا اس کو تم اپنا مخدوم قرار دے رہے ہو اور جسے ہم نے مخدوم بنا کر بھیجا تھا وہ خادم بن رہا ہے تم ان سے ڈرتے اور گھبراتے کیوں ہو۔کیا تم نے کبھی دیکھا کہ کوئی آقا اپنے نوکر سے ڈر رہا ہو اور اس کے آگے ہاتھ جوڑتا پھرتا ہو، یا کوئی افسر اپنے چپڑاسی کی منتیں کرتا رہتا ہو اور گر تم کسی کو ایسا کرتے دیکھ تو کیا تم نہیں کہو گے کہ وہ پاگل ہو گیا ہے۔پھر تمہیں کیوں اتنی موٹی بات بھی سمجھ نہیں آتی کہ وَسَخَّرَ لَكُمُ ہم نے تو ان تمام چیزوں کو تمہارا غلام بنا کر دنیا میں پیدا کیا ہے اور ان سب کا فرض ہے کہ وہ تمہاری خدمت کریں۔بیشک یہ بڑی چیزیں ہیں مگر جس ہستی نے ان کو پیدا کیا ہے وہ ان سے بھی بڑی ہے۔اس نے تو ان چیزوں کو تمہاری خدمت کے لئے پیدا کیا ہے مگر تمہاری عجیب حالت ہے کہ تم اُلٹا انہیں کے آگے اپنے ہاتھ جوڑ رہے ہو۔قرآن کریم نے جو شرک کی اس بیہودگی کی طرف اس زور سے توجہ دلائی ہے۔مجھے اس کے متعلق ایک قصہ یاد آ گیا وہ بھی بیان کرتا ہوں