سیر روحانی — Page 73
کہ اس سے مشرکوں کی بے وقوفی پر خوب روشنی پڑتی ہے۔وہ قصہ یہ ہے کہ فرانس میں دو پادری ایک دفعہ سفر کر رہے تھے کہ سفر کرتے کرتے رات آ گئی اور انہیں ضرورت محسوس ہوئی کہ کہیں رات آرام سے بسر کریں اور صبح پھر اپنی منزل مقصود کی طرف روانہ ہو جائیں۔انہوں نے ایک مکان کا دروازہ کھٹکھٹایا، اندر سے ایک عورت نکلی، انہوں نے کہا ہم مسافر ہیں ، صرف رات کاٹنا چاہتے ہیں اگر تکلیف نہ ہو تو تھوڑی سی جگہ کا ہمارے لئے انتظام کر دیا جائے ، ہم صبح چلے جائیں گے۔اس نے کہا جگہ تو کوئی نہیں ، ایک ہی کمرہ ہے جس میں ہم میاں بیوی رہتے ہیں مگر چونکہ تمہیں بھی ضرورت ہے اس لئے ہم اس کمرہ میں ایک پردہ لٹکا لیتے ہیں ایک طرف تم سوتے رہنا ، دوسری طرف ہم رات گزار لیں گے۔چنانچہ اس نے پردہ لٹکا دیا اور وہ دونوں اندر آگئے۔اتفاق یہ ہے اُن کے پاس کچھ روپے بھی تھے ، اب جب وہ سونے کے لئے لیٹے تو انہیں خیال آیا کہ کہیں یہ گھر والے ہماری نقدی نہ چرا لیں۔اس لئے انہوں نے ایک دوسرے سے کہا کہ ذرا ہوشیار رہنا اور جاگتے رہنا ، ایسا نہ ہو کہ ہم کوئے جائیں۔ادھر میاں جو پیشہ میں قصاب تھا اس خیال سے کہ ہمارے مہمانوں کی نیند خراب نہ ہو بیوی سے آہستہ آہستہ باتیں کرنے لگا ان پادریوں کے پاس چونکہ روپیہ تھا انہوں نے سوچا کہ کہیں یہ لوگ ہمیں کوٹنے کی تجویز تو نہیں کر رہے اور کان لگا کر باتیں سننے لگے۔اُن دونوں میاں بیوی نے دوسو ر پال رکھے تھے جو سور خانے میں تھے اور وہ چاہتے تھے کہ ان میں سے ایک کو دوسرے دن ذبح کر دیں۔اتفاق کی بات ہے کہ ایک سور موٹا تھا اور ایک دبلا تھا۔اسی طرح ایک پادری بھی موٹا تھا اور ایک ڈبلا۔جب پادریوں نے کان لگا کر سُنا شروع کیا تو اُس وقت میاں بیوی آپس میں یہ گفتگو کر رہے تھے کہ اب وقت آ گیا ہے کہ ایک کو ذبح کر دیا جائے ، خاوند کہنے لگا کہ میری بھی یہی صلاح ہے کہ ایک کو ذبح کر دیا جائے۔پادریوں نے جب یہ بات سنی تو انہوں نے سمجھا کہ بس اب ہماری خیر نہیں ، ضرور چھر الے کر ہم پر حملہ کر دیں گے اور ہمیں مار کر نقدی اپنے قبضہ میں کر لیں گے مگر انہوں نے کہا ابھی یہ فیصلہ کرنا ٹھیک نہیں ذرا اور باتیں بھی سُن لیں۔پھر انہوں نے کان لگائے تو انہوں نے سُنا کہ بیوی کہہ رہی ہے پہلے کس کو ذبح کریں؟ میاں نے کہا پہلے موٹے کو ذبح کرو پتلا جو ہے اُسے چند دن کھلا پلا کر پھر ذبح کر دینگے۔یہ بات انہوں نے جو نہی سنی وہ سخت گھبرائے اور انہیں یقین ہو گیا کہ اب ہمارے قتل کی تجویز پختہ ہو چکی ہے چنانچہ انہوں نے چاہا کہ کسی طرح اس مکان سے بھاگ نکلیں۔دروازے چونکہ بند تھے اس لئے دروازوں سے نکلنے کا تو کوئی راستہ نہ