سیر روحانی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 68 of 900

سیر روحانی — Page 68

Чл کبھی حضرت ابراہیم علیہ السلام کو بھی بٹھا دیتا اور کبھی ان کے دوسرے بھائیوں کو۔اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کے اندر بچپن سے ہی سعادت کا مادہ رکھا ہوا تھا، چنانچہ یہودی روایات ( طالمود) میں آتا ہے کہ ایک دن ان کا بھائی انہیں دکان پر بٹھا گیا اور بُھوں کی قیمت وغیرہ بتا کر کہہ گیا کہ اگر کوئی گاہک آئے تو اُسے بُت دیدینا۔تھوڑی دیر ہی گزری تھی کہ ایک تو بڑھا شخص اس دکان پر آیا اور کہنے لگا کہ مجھے ایک بُت چاہئے۔حضرت ابراہیم علیہ السلام نے ایک بُت اٹھایا اور گاہک کے ہاتھ میں دیدیا۔وہ اُسے دیکھ کر کہنے لگا کہ اچھا ہے اس کی قیمت بتاؤ۔انہوں نے کہا کہ تم پہلے یہ بتاؤ کہ تم اس بُت کو کیا کرو گے۔اُس نے کہا اسے گھر میں لے جاؤں گا اور اپنے سامنے رکھ کر اس کے آگے سجدہ کیا کرونگا۔حضرت ابراہیم علیہ السلام نے یہ سن کر بڑے زور سے ایک قہقہ لگایا اور کہا تجھے اس کے آگے جھکتے ہوئے شرم نہیں آئے گی۔توستر اتنی سال کی عمر کا ہو گیا ہے اور یہ بُت وہ ہے جو گل ہی میرے چانے بنوایا ہے بھلا اس بت نے جسے کل سنگ تراش نے اپنے ہاتھوں سے بنایا ہے تجھے کیا فائدہ پہنچانا ہے اور کیا تجھے شرم نہیں آئے گی کہ تو اتنا بڑا آدمی ہو کر اس کے آگے جھک جائے۔اب وہ گو بُت پرست ہی تھا مگر یہ فقرہ سُن کر اس کے اندر بُت کو گھر لے جانے کی ہمت نہ رہی اور وہ وہیں اسے چھوڑ کر چلا گیا۔ان کے بھائیوں کو جب یہ بات معلوم ہوئی تو انہوں نے باپ سے شکایت کر دی کہ ابراہیم کو دکان پر نہ بٹھایا جائے ورنہ یہ تمام گاہکوں کو خراب کر دیگا۔تو ان لوگوں میں ستاروں کا علم خاص طور پر پایا جا تا تھا اور علم رمل اور علم نجوم آئندہ نسلوں کو سکھایا جاتا تھا۔جس طرح ہندوؤں میں پنڈت اس کام میں مشاق ہوتے ہیں اور وہ زائچہ نکالتے اور جنم پتری دیکھتے ہیں اسی طرح ان کو بھی زائچہ نکالنا اور جنم پتری دیکھنا سکھایا جاتا تھا۔حضرت ابراہیم علیہ السلام بھی چونکہ ایسے ہی خاندان میں سے تھے اس لئے لازماً انہوں نے بھی یہ علم سیکھا، مگر جب بڑے ہوئے اور انہوں نے لوگوں کو توحید کی تعلیم دینی شروع کر دی تو قوم سے ان کی بحثیں شروع ہوگئیں۔حضرت ابراہیم کا ستارہ پرستوں کو درس توحید ایک دن وہ اپنے رشتہ داروں اور قوم کے دوسرے لوگوں سے کہنے لگے کہ تم یہ تو سوچو کہ آخر تم کس چیز کی عبادت کرتے ہو۔تم جھوٹ اور فریب کے ساتھ خدا تعالیٰ کو چھوڑ کر اور معبود بناتے ہو اور پھر یہ جانتے ہوئے کہ تم نے خود اپنے ہاتھ سے ان بچوں کی کو بنایا ہے ان کے پیچھے چل پڑتے ہو اور انہیں خدا کا شریک قرار دیتے ہو۔تم جو ستاروں کے