سیر روحانی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 67 of 900

سیر روحانی — Page 67

۶۷ لیکن اللہ تعالیٰ کی طرف جب توجہ کی جائے تو اس قسم کے تمام عقدے حل ہو جاتے ہیں پس وہ خبریں صرف خبریں ہوتی ہیں، لیکن الہام الہی میں قدرت اور جلال کا پہلو پایا جاتا ہے۔ستاروں سے حاصل کردہ خبروں کی حقیقت پھر میں نے پو چھا کہ ستاروں سے جو خبریں ملتی ہیں اُن کی حقیقت کیا ہوتی ہے؟ اس کے جواب میں مجھے ایک نہایت ہی لطیف بات سورۃ الصفت سے معلوم ہوئی۔اللہ تعالیٰ اس میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کا ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے۔وَاِنَّ مِنْ شِيعَتِهِ لَإِبْرَاهِيمَ إِذْجَآءَ رَبَّهُ بِقَلْبٍ سَلِيمٍ إِذْ قَالَ لِاَبِيْهِ وَقَوْمِهِ مَاذَا تَعْبُدُونَ أَئِفَكًا الِهَةً دُونَ اللهِ تُرِيدُونَ فَمَاظَنُّكُمْ بِرَبِّ الْعَلَمِيْنَ فَنَظَرَ نَظْرَةً فِي النُّجُومِ فَقَالَ إِنِّي سَقِيمٌ فَتَوَلَّوْاعَنُهُ مُدْبِرِينَ فَرَاغَ إِلَّى الهَتِهِمْ فَقَالَ اَلَا تَأْكُلُونَ مَالَكُمْ لَا تَنْطِقُونَ فَرَاغَ عَلَيْهِمْ ضَرْباً بِالْيَمِينِ فَاقْبَلُوا إِلَيْهِ يَزِفُّونَ قَالَ أَتَعْبُدُونَ مَا تَنْحِتُونَ وَاللهُ خَلَقَكُمْ وَ مَا تَعْمَلُونَ قَالُوا ابْنُوا لَهُ بُنْيَانًا فَالْقُوهُ فِي الْجَحِيمِ فَاَرَادُوا بِهِ كَيْدًا فَجَعَلْنَهُمُ الْاَسْفَلِينَ وَقَالَ إِنِّى ذَاهِبٌ إِلَى رَبِّي سَيَهْدِينِ " حضرت ابراہیم علیہ السلام اُس قوم سے تعلق رکھتے تھے جو ستارہ پرست تھی چنانچہ قرآن مجید میں ہی ایک دوسرے مقام پر ذکر آتا ہے کہ انہوں نے ایک دفعہ مخالفوں کو چڑانے اور انہیں سمجھانے کے لئے طنزاً کہا کہ فلاں ستارہ میرا رب ہے مگر جب وہ ڈوب گیا تو کہنے لگے کہ یہ خدا کیسا ہے جو ڈوب گیا۔میں تو ایسے خدا کا قائل نہیں ہو سکتا۔اس کے بعد اُنہوں نے طنزا چاند کے متعلق کہا کہ وہ میرا رب ہے اور جب وہ بھی ڈوب گیا تو کہنے لگے میں تو سخت غلطی میں مبتلاء ہو جا تا اگر میرا خدا میری رہبری نہ کرتا ، بھلا وہ بھی خدا ہو سکتا ہے جو ڈوب جائے۔پھر سورج کے متعلق انہوں نے کہا کہ وہ میرا رب ہے مگر جب وہ بھی غروب ہو گیا تو وہ کہنے لگے کہ میں ان سب مشر کا نہ باتوں سے بیزار ہوں۔میرا خدا تو ایک ہی خدا ہے جو زمین و آسمان کا مالک ہے۔تو حضرت ابراہیم علیہ السلام جس قوم میں سے تھے وہ ستارہ پرست تھی اور چونکہ ستاروں کی پرستش نہیں ہوسکتی اس لئے اُنہوں نے مختلف ستاروں کے قائمقام کے طور پر بہت سے بُت بنائے ہوئے تھے اور وہ یہ عقیدہ رکھتے تھے کہ اگر ان بجھوں کی عبادت کی جائے تو جس ستارہ کے یہ قائم مقام ہیں اس کی مدد ہمیں حاصل ہو جائے گی۔پھر حضرت ابراہیم علیہ السلام جس خاندان میں سے تھے وہ بھی پروہتوں کا خاندان تھا چنانچہ ان کے باپ نے ایک بچوں کی دکان کھولی ہوئی تھی جس پر وہ