سیر روحانی — Page 66
۶۶ کی ضرورت ہوتی ہے کیا ان کے لئے بھی کوئی راہ ہے؟ اس پر مجھے جواب ملا کہ ہاں۔اِنَّ الَّذِينَ قَالُوا رَبُّنَا اللهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوا تَتَنَزَّلُ عَلَيْهِمُ الْمَلَئِكَةُ اَلَّا تَخَافُوا وَلَا تَحْزَنُوا وَأَبْشِرُوا بِالْجَنَّةِ الَّتِي كُنتُمْ تُوعَدُونَ - نَحْنُ اَولِيَؤُكُمْ فِى الْحَياةِ الدُّنْيَا وَفِي الْآخِرَةِ وَلَكُمُ فِيهَا مَاتَشْتَهِي اَنْفُسُكُمْ وَلَكُمْ فِيهَا مَاتَدَّعُونَ - نُزُلاً مِّنْ غَفُورٍ رَّحِيمٍ وہ لوگ جنہوں نے یہ کہا کہ اللہ ہمارا رب ہے اور پھر انہوں نے لوگوں کی مخالفت کی پروا نہ کی بلکہ استقامت سے بچے مذہب پر قائم رہے اُن پر اللہ تعالیٰ کے فرشتے نازل ہوتے ہیں جو کہتے ہیں کہ ڈرو نہیں اور نہ غم کرو۔ہم فرشتے تمہاری حفاظت کیا کریں گے ، تمہاری پچھلی خطائیں معاف ہو چکیں اور آئندہ کے لئے تمہارے ساتھ خدا کا یہ وعدہ ہے کہ وہ تمہیں جنت میں داخل کریگا ، ہم تمہارے دوست ہیں اس دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی۔وہاں جس چیز کے متعلق بھی تمہارا جی چاہے گا وہ تمہیں مل جائیگی اور جو کچھ مانگو گے وہ تمہیں دیا جائے گا، یہ تمہاری مہمان نوازی ہے جو بخشنے والے مہربان رب کی طرف سے ہے۔اس نے تمہارا ماضی بھی درست کر دیا اور اس نے تمہارے مستقبل کو بھی ہر قسم کے خطرہ سے آزاد کر دیا۔منجموں کی خبروں اور الہام الہی میں فرق اس میں یہ جواب بھی آ گیا کہ ستاروں کی خبریں صرف خبریں ہوتی ہیں اور یہ تقدیر ہوتی ہے یعنی وہ لوگ جو ستاروں کی گردشیں دیکھ کر دوسروں کو خبر میں بتا یا کرتے ہیں وہ صرف خبر بتاتے ہیں مثلاً یہ کہ دیتے ہیں کہ فلاں شخص مر جائے گا۔اب یہ صرف ایک خبر ہے اس میں یہ ذکر نہیں کہ وہ کسی طریق پر عمل کر کے موت سے بچ بھی سکتا ہے لیکن الہامِ الہی میں جہاں انذار ہوتا ہے وہاں تبشیر بھی ہوتی ہے۔اگر ایک طرف یہ ذکر ہوتا ہے کہ تمہیں ترقی ملے گی تو دوسری طرف یہ ذکر بھی ہوتا ہے کہ تمہارے دشمن ہلاک کئے جائیں گے اور پھر اُن دشمنوں کو بھی بتایا جاتا ہے کہ اگر ہمارے نبی پر ایمان لے آؤ تو تم ان آنے والی مصیبتوں سے بچ جاؤ گے لیکن اگر مخالفت اور دشمنی پر مصر رہے تو پھر تمہاری ہلاکت یقینی ہے۔گویا ایک تقدیر اور قدرت ہے جو الہام الہی میں پائی جاتی ہے مگر کسی رصد گاہ سے جو لوگ کوئی خبر معلوم کرتے ہیں اس میں کوئی قدرت اور جلال کا پہلو نہیں ہوتا۔بسا اوقات رصد گاہ والا خود اپنے متعلق جب کوئی بات معلوم کرنا چاہتا ہے تو اُسے یہ بات معلوم ہو جاتی ہے کہ تیرا بیٹا مر جائے گا اب وہ ہزار کوشش کرے کہ کسی طرح مجھے یہ معلوم ہو جائے کہ میں کس طرح اس مصیبت سے بچ سکتا ہوں تو اسے کسی طرح یہ بات معلوم نہیں ہو سکتی ،