سیر روحانی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 798 of 900

سیر روحانی — Page 798

۷۹۸ یعنی تم اُن معبودوں کو جن کو کفار خدا تعالیٰ کے سوا پکارتے ہیں گالیاں نہ دو ورنہ وہ جہالت کی وجہ سے خدا تعالیٰ کو گالیاں دینے لگ جائیں گے۔اس آیت میں بتایا گیا ہے کہ کسی قوم کے قابل عزت بزرگوں کے حق میں کوئی بُری بات نہیں کہنی چاہئے ورنہ اُن کے دل دُکھیں گے اور چونکہ وہ اخلاق سے عاری ہیں اس لئے وہ جواب میں اللہ تعالیٰ کو گالیاں دینے لگ جائیں گے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں اِنَّ مِنْ أَكْبَرِ الْكَبَائِرِ أَنْ يُلْعَنَ الرَّجُلُ وَالِدَيْهِ قِيْلَ يَا رَسُولَ اللهِ وَ كَيْفَ يَلْعَنُ الرَّجُلُ وَالِدَيْهِ قَالَ يَسُبُّ الرَّجُلُ أَبا الرَّجُلِ فَيَسُبُّ اَبَاهُ وَيَسُبُّ أُمَّهُ - ٤٢ یعنی کسی شخص کو نہیں چاہئے کہ وہ اپنے ماں باپ کو گالیاں دے۔صحابہ نے عرض کیا يَارَسُولَ اللہ ! اپنے ماں باپ کو کون گالیاں دیتا ہے۔آپ نے فرمایا جو شخص دوسرے کے ماں باپ کو گالیاں دیتا ہے۔وہ گویا اپنے ماں باپ کو گالیاں دیتا ہے کیونکہ دوسرا شخص جوش میں آکر اس کے ماں باپ کو گالیاں دینے لگ جائیگا۔غرض اللہ تعالیٰ نے عِلمُ الاخلاق کا بھی ذکر فرما دیا ہے۔عیسائی بڑا ناز کرتے ہیں کہ حضرت مسیح علیہ السلام نے یہ تعلیم دی ہے کہ تم دوسرے کیلئے بھی وہی بات پسند کرو جو تم اپنے لئے پسند کرتے ہو۔حالانکہ قرآن کریم بھی کہتا ہے کہ دوسروں کے بتوں وغیرہ کو گالیاں نہ دو۔ورنہ اگر تم اُنکے معبودوں کو گالیاں دو گے تو وہ جوابا تمہارے خدا کو گالیاں دیں گے اور پھر تمہیں اس پر چڑنے یا بُرا منانے کا کوئی حق نہیں ہو گا کیونکہ ابتداء تمہاری طرف سے ہوئی ہوگی۔لیکن اگر ابتداء دوسروں کی طرف سے ہوئی ہو اور وہ تمہارے معبود کو گالیاں دیں تو پھر بیشک وہ ظالم ہو نگے لیکن اگر پہل تمہاری طرف سے ہو اور تم کسی کے معبود کو گالیاں دو اور وہ جواباً تمہارے خدا کو بھی گالیاں دینے لگ جائے تو تمہیں اس پر چڑنے کا کوئی حق نہیں ہوگا کیونکہ اسے جواب دینے والا سمجھا جائے گا ظلم کرنے والا نہیں سمجھا جائے گا۔چنانچہ احادیث میں آتا ہے ایک دفعہ ایک صحابی نے ایک یہودی کے سامنے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ایسے طور پر ذکر کیا کہ آپ کی حضرت موسیٰ علیہ السلام پر فضیلت ثابت ہوتی تھی۔اس سے بہرحال اس یہودی کو تکلیف ہوئی۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کا علم ہوا تو آپ نے فرما يا لَا تُخَيَّرُونِی علی موسی ۷۵ مجھے حضرت موسیٰ علیہ اسلام پر اس طرح فضیلت نہ دیا کرو کہ اس سے کوئی جھگڑا پیدا ہو جائے۔