سیر روحانی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 797 of 900

سیر روحانی — Page 797

۷۹۷ الَّذِي خَلَقَ السَّمَواتِ وَالْاَرْضَ وَجَعَلَ الظُّلُمتِ وَ النُّوْرَ۔ثُمَّ الَّذِينَ كَفَرُوا بِرَبِّهِمْ يَعْدِلُونَ یعنی سب تعریفوں کا مستحق خدا تعالیٰ ہی ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو بنایا ہے اور پھر اُس نے اندھیروں اور نور کو پیدا کیا ہے لیکن اس کے باوجود کا فرلوگ اُس کے ساتھ شریک بناتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ٹور کا خدا اور ہے اور تاریکی کا خدا اور ہے۔چنانچہ زرتشتیوں کا بھی یہی خیال تھا کہ اہر من ظلمت کا خدا ہے اور یزدان نور کا خدا ہے۔اسے خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہ عقیدہ اس لئے غلط ہے کہ دنیا میں بعض چیزیں نور کے ماتحت پائی جاتی ہیں اور بعض چیزیں ظلمت کے ماتحت پائی جاتی ہیں۔نور اور ظلمت علیحدہ علیحدہ چیزیں نہیں بلکہ ایک ہی زنجیر کی دو کڑیاں ہیں اور دونوں چیزیں ثابت کرتی ہیں کہ خدا ایک ہے۔اگر ظلمت یہ ثابت کرتی کہ خدا تعالیٰ میں کوئی نقص ہے تو بے شک ایک اور خدا یزدان کی ضرورت ہوتی لیکن یہاں یہ صورت نہیں۔یہاں تو ظلمت بھی خدا تعالیٰ کی تعریف کرتی ہے اور ٹور بھی خدا تعالیٰ کی تعریف کرتا ہے۔چنانچہ دوسری جگہ آتا ہے قُلْ اَرَءَ يُتُمُ اِنْ جَعَلَ اللهُ عَلَيْكُمُ الَّيْلَ سَرْمَدًا إِلَى يَوْمِ الْقِيمَةِ مَنْ إِلَهُ غَيْرُ اللهِ يَا تِيْكُمُ بِضِيَاءٍ - أَفَلَا تَسْمَعُونَ قُلْ اَرَءَ يُتُمُ اِن جَعَلَ اللهُ عَلَيْكُمُ النَّهَارَ سَرُمَدًا إِلى يَوْمِ الْقِيمَةِ مَنْ إِلَةٍ غَيْرُ اللَّهِ يَأْتِيَكُمُ بِلَيْلِ تَسْكُنُونَ فِيهِ ، أَفَلَا تُبْصِرُونَ " ط فرماتا ہے۔ظلمت اور نور دونوں کا وجود انسان کے لئے ضروری ہے۔نہ نور کے بغیر وہ زندہ رہ سکتا ہے اور نہ ظلمت کے بغیر زندہ رہ سکتا ہے۔انسان دن کو کام کر کے تھک جاتا ہے اور رات کو نیند کے ذریعہ آرام حاصل کر کے پھر تر و تازہ ہو جاتا ہے۔اس لئے اگر خدا تعالیٰ رات کو لمبا کر دیتا تو کوئی انسان کام نہ کر سکتا۔اسی طرح اگر وہ دن کو لمبا کر دیتا تو کوئی شخص آرام نہ کر سکتا۔پس نور اور ظلمت دونوں چیزیں انسانی بقا کے لئے ضروری ہیں اور اُن کو دو خداؤں کی پیدائش کہنا غلط ہے۔قرآن کریم میں عِلمُ الاخلاق کا ذکر پھر علم الاخلاق بھی ایک اہم علم ہے اور اس پر کئی کتا ہیں لکھی گئی ہیں قرآن کریم نے اس علم کی طرف اشارہ کیا ہے۔چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَلَا تَسُبُّوا الَّذِينَ يَدْعُونَ مِنْ دُونِ اللهِ فَيَسُبُّوا اللهَ عَدُوا بِغَيْرِ عِلْم ٣