سیر روحانی — Page 779
چنانچہ بعض سائنسدانوں نے ثابت کیا ہے کہ ٹین ۲۸ میں بھی نر و مادہ پایا جاتا ہے۔مسئلہ ارتقاء اور قرآنی کتب خانہ پھر نیچرل ہسٹری والے بیان کرتے ہیں کہ انسان بندر سے بنا ہے۔چنانچہ ڈارون نے اس تھیوری کو پیش کیا کہ پہلے دنیا میں چھوٹے جانور بنے۔پھر اُس سے بڑے جانور بنے اور پھر اُن جانوروں میں سے کسی جانور سے ترقی کر کے انسان بنا مگر وہ جانور جس سے انسان بنا اب ملتا نہیں ، ہاں اتنا پتہ چلتا ہے کہ اس جانور کی اعلیٰ قسم بندر ہے۔گویا اس کے نزدیک انسانی ارتقاء بندروں کی قسم کے ایک جانور سے ہوا ہے مگر بعض دوسرے محققین کہتے ہیں کہ گوانسان نے ارتقائی قانون کے ماتحت ہی ترقی کی ہے مگر وہ حیوانات کی نسل سے بہت پہلے سے جدا ہو چکا تھا اور اُسی وقت سے آزادانہ ترقی کر رہا ہے۔چونکہ دنیا اس بارہ میں صحیح علم کی سخت محتاج تھی اس لئے قرآنی کتب خانہ نے اس اہم موضوع کے متعلق بھی روشنی ڈالی اور فرمایا کہ مَالَكُمْ لَا تَرْجُونَ لِلَّهِ وَقَارًا هِ وَقَدْ خَلَقَكُمْ أَطْوَارًا ۲۹ یعنی اے لوگو! تمہیں کیا ہو گیا کہ تم خدا تعالیٰ کے متعلق وقار کا خیال نہیں رکھتے۔وقار کے معنے عام طور پر سنجیدگی کے سمجھے جاتے ہیں حالانکہ وقار کے معنے ہوتے ہیں حکمت کے ساتھ کام کرنا پس مَا لَكُمْ لَا تَرْجُونَ لِلَّهِ وَقَارًا کے یہ معنے ہیں کہ تمہیں کیا ہو گیا کہ تم خدا تعالیٰ کے متعلق یہ خیال کرتے ہو کہ وہ یونہی بغیر حکمت کے کام کرتا ہے حالانکہ وہ ہر کام حکمت کے ساتھ کرتا ہے وَقَدْ خَلَقَكُمْ اَطْوَارًا اور اس کا ثبوت یہ ہے کہ اُس نے تم کو درجہ بدرجہ مختلف تبدیلیوں میں سے گزارتے ہوئے پیدا کیا ہے تاکہ تمہاری پیدائش میں کوئی نقص نہ رہے اگر وہ بغیر کسی حکمت کے کام کرتا تو مختلف دوروں میں سے وہ انسان کو کیوں گزارتا۔وہ اُسے یکدم پیدا کر دیتا مگر اُس نے انسان کو یکدم پیدا نہیں کیا بلکہ قدم بقدم کئی دوروں میں سے گزارتے ہوئے پیدا کیا ہے۔کبھی اُس پر عدم کا دور تھا، کبھی وہ ایک وجود تو تھا مگر بغیر دماغ کے، کبھی نطفہ سے اُس کی پیدائش ہونے لگی اور پھر آخر میں اُس پر وہ دور آیا جبکہ اُس کا دماغ کامل ہو گیا اور وہ صحیح معنوں میں انسان کہلانے لگ گیا۔قرآنی کتب خانہ میں زمین و آسمان کی پیدائش کا ذکر پھر قرآن کریم زمین و آسمان کی پیدائش کے متعلق فرماتا ہے اَوَلَمْ يَرَ الَّذِينَ كَفَرُوا أَنَّ السَّمَواتِ وَالْأَرْضَ كَانَتَا رَتْقًا فَفَتَقْنَهُمَا وَ جَعَلْنَا