سیر روحانی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 778 of 900

سیر روحانی — Page 778

22λ ہزاروں کتا ہیں لکھی گئی ہیں۔قرآن کریم نے اس علم کے متعلق سب سے پہلے یہ انکشاف فرمایا کہ تمام نباتات میں نرومادہ کا وجود پایا جاتا ہے۔جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَانْبَتْنَا فِيهَا مِنْ كُلِّ زَوْجٍ بَهِيج۔1 ہم نے زمین میں ہر قسم کے خوبصورت جوڑے اُگائے ہیں۔جب یہ آیت نازل ہوئی ہے تو عربوں میں صرف اتنا علم پایا جاتا تھا کہ کھجور میں نر و مادہ ہوتا ہے مگر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جن پر قرآن نازل ہوا انہیں اتنا علم بھی نہیں تھا۔چنانچہ احادیث میں آتا ہے کہ ایک دفعہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کہیں سے گزرے تو آپ نے دیکھا کہ کچھ لوگ کھیتوں میں کام کر رہے ہیں اور وہ ایک جگہ سے کوئی چیز لاتے ہیں اور دوسری پر لگا دیتے ہیں۔آپ نے فرمایا یہ کیا ہے؟ تو انہوں نے جواب دیا ، يَا رَسُولَ اللهِ! ہم نر کھجور کا مادہ کھجور سے پیوند کرتے ہیں۔آپ نے فرمایا اس کا کیا فائدہ جو پھل لگتا ہے وہ تو آپ ہی لگ جائے گا۔انہوں نے یہ بات سُن کر نر اور مادہ درختوں کو آپس میں ملا نا ترک کر دیا۔دوسرے سال وہ لوگ آپ کے پاس آئے اور انہوں نے کہا۔يَارَسُولَ اللَّهِ! ہماری فصل تو بہت کم ہوئی ہے کیونکہ ہم آپ کے کہنے پر پیوند لگانے سے رُک گئے تھے۔آپ نے فرمایا تم کیوں رُک گئے تھے؟ میں تو ایک انسان ہوں اور مجھے علم غیب حاصل نہیں۔اگر تمہارے تجربہ سے یہ بات ثابت تھی تو تم نے میری بات نہیں مانی تھی۔۲ پھر قرآن کریم نے صرف نباتات کے نرومادہ ہونے کا ہی ذکر نہیں کیا بلکہ فرمایا۔وَمِنُ كُلِّ شَيْءٍ خَلَقْنَا زَوْجَيْنِ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُونَ۔ہم نے ہر چیز کے نرومادہ بنائے ہیں تا کہ تم نصیحت حاصل کرو۔اب انسان کے نرومادہ کا تو سب کو علم ہے، جانوروں کے نرومادہ کا بھی علم ہے، زراعت کے متعلق بھی اب بہت حد تک پتہ لگ گیا ہے کہ درختوں اور نباتات میں نرومادہ کا وجود پایا جاتا ہے۔چنانچہ عام طور پر سیہ قانون بتایا جاتا ہے کہ باغوں میں شہد کی مکھیاں پالنی چاہیں اور اُس کی وجہ یہ ہے کہ شہد کی لکھی نر کا پھول لے کر مادہ کے پھول سے ملادیتی ہے۔اور اس کے نتیجہ میں پھل زیادہ ہوتا ہے۔ہمارے علاقہ میں تو اس کا رواج کم ہے لیکن پشاور کی طرف چلے جاؤ تو بڑے بڑے خاندانوں نے اپنے باغات میں شہد کی مکھیاں پالی ہوئی ہیں یہی وجہ ہے کہ وہاں باغ زیادہ لگائے جاتے ہیں اور اُن میں پھل زیادہ آتا ہے بلکہ تازہ سائنٹیفک تحقیقات سے تو یہاں تک ثابت ہے کہ جمادات میں بھی بعض قسمیں ایسی ہیں جن میں نر و مادہ کا وجود پایا جاتا ہے۔