سیر روحانی — Page 57
۵۷ - بھی دیکھا کہ اس کی چوری کہیں سے پکڑی بھی جاتی ہے یا نہیں۔ظاہر ہے کہ اگر حضرت ہارون علیہ السلام سے یہ مشرکانہ فعل سرزد ہو ا ہوتا تو نبوت تو کیا انہیں ایمان سے بھی چھٹی مل جاتی اور کوئی شخص انہیں مومن سمجھنے کے لئے بھی تیار نہ ہوتا کجا یہ کہ انہیں نبی مانتا۔مگر جب ہم بائبل کو دیکھتے ہیں تو ہمیں یہ معلوم ہوتا ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے پہاڑ سے واپس آ کر جب دیکھا کہ لوگوں نے بچھڑے کی پرستش شروع کر دی ہے تو انہوں نے لوگوں کو سخت ڈانٹا۔بچھڑے کو آگ سے جلا دیا اور قریباً تین ہزار آدمیوں کو قتل کی سزا دی۔۵۴۔اس فتنہ کوفر و کر نے کے بعد وہ پھر پہاڑ پر گئے اور جب وہاں سے واپس آئے تو حضرت ہارون علیہ السلام کے لئے خدا تعالیٰ کا یہ حکم لائے کہ : - ہارون کو مقدس لباس پہنا اور اس کو چپڑ۔اور اُسے مقدس کر تاکہ کا ہن کا کام میری خدمت میں کرے اور اُس کے بیٹوں کو نز دیک لا اور اُن کو گرتے پہنا اور اُن کو چُپڑ۔جیسے اُن کے باپ کو چپڑا ہے تا کہ وہ کا ہن کا کام میری خدمت میں کریں اور یہ مساحت اُن کے لئے اور اُن کے قرنوں کیلئے ہمیشہ کی کہانت کا باعث ہو گی اور موسیٰ نے ایسا کیا سب جو خدا وند نے اس کو حکم کیا تھا عمل میں لایا۔۵۵ گویا اس مشرکانہ فعل کے بعد جو بروئے بائبل حضرت ہارون علیہ السلام سے سرزد ہو ا تھا خدا تعالیٰ نے حضرت ہارون علیہ السلام پر بجائے کسی ناراضگی کا اظہار کرنے کے فیصلہ یہ کیا کہ ہارون کو مقدس لباس پہنایا جائے اور نہ صرف اس کی عزت افزائی کی جائے بلکہ اس کی تمام اولاد کی عزت کرنا بھی بنی اسرائیل پر فرض قرار دیا جائے اور عبادت گاہوں اور مساجد کی ذمہ داری ان کے سپرد کی جائے۔کیا ایک مشرکانہ فعل کا یہی نتیجہ ہوا کرتا ہے؟ اور کیا اگر حضرت ہارون علیہ السلام سے یہ فعل سرزد ہوا ہوتا تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان سے یہی سلوک کیا جاتا ؟ بائبل کی یہ اندرونی گواہی صاف طور پر بتا رہی ہے کہ حضرت ہارون علیہ السلام نے شرک کی تائید نہیں کی تھی بلکہ شرک کی مخالفت کی تھی اور چونکہ انہوں نے خدا تعالیٰ کی توحید کی تائید کی اس لئے خدا بھی اُن پر خوش ہو ااور اُس نے کہا کہ چونکہ ہارون نے میری عبادت دنیا میں قائم کی ہے اس لئے آئندہ تمام عبادت گاہوں کا انتظام ہارون اور اس کی اولاد کے سپرد کیا جائے۔پس بائبل کی یہ تو اندرونی گواہی اس الزام کی تردید کر رہی ہے جو اُس نے اسی کتاب میں حضرت ہارون علیہ السلام پر لگایا ہے اور قرآن کریم کے بیان کی جو اس کے نزول کے ساڑھے اُنیس سو سال بعد یا اس کی تحریر