سیر روحانی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 58 of 900

سیر روحانی — Page 58

کے سترہ اٹھارہ سو برس بعد نازل ہوا ہے تصدیق کرتی ہے۔پھر میں نے آثار قدیمہ کا ہر قوم کی طرف خدا تعالیٰ نے رحمت کا ہاتھ بڑھایا ہے پھر ہیں۔تیسرا کمرہ دیکھا تو مجھے نظر آیا کہ تمام قوموں میں یہ احساس پایا جاتا ہے کہ اُن کے سوا صداقت سے کوئی آشنا نہیں۔ہر قوم دوسری قوم کے متعلق یہ خیال کرتی ہے کہ اُس میں جھوٹ ، فریب اور دغا بازی کے سوا اور کچھ نہیں۔میں نے ہندوؤں سے پوچھا تو انہوں نے کہا کہ خدا تعالیٰ نے سب معرفت اور ہدایت ہمارے بزرگوں کی معرفت دنیا کو دیدی ہے، اب اس کے بعد کسی اور الہام کی ضرورت ہی کیا ہے کہ کسی اور قوم میں کوئی ریشی آتا۔میں نے زرتشتیوں کی طرف دیکھا تو انہیں بھی یہ کہتے سنا کہ زرتشتیوں کے سوا اور کوئی مذہب سچا نہیں۔میں نے یہودیوں کو دیکھا تو انہیں بھی یہ کہتے پایا کہ قریباً تمام انبیاء خدا نے بنی اسرائیل میں ہی بھیجے ہیں، دوسری اقوام کو اللہ تعالیٰ نے اس فضل سے محروم ہی رکھا ہے اور میں نے مسیحیوں کی طرف نگاہ کی تو اُن کا عقیدہ بھی مجھے ایسا ہی نظر آیا۔غرض ہر قوم کو میں نے یہ کہتے سنا کہ روحانی تہذیب کا نشان اس کے سوا اور کہیں نظر نہیں آ سکتا ، مگر جب میں نے قرآنی آثار قدیمہ کے محکمہ کو دیکھا تو میں نے اس کے ایک کمرہ میں یہ لکھا ہوا پایا کہ إِنْ مِّنْ أُمَّةٍ إِلَّا خَلَا فِيهَا نَذِی ۵ کہ دنیا کی کوئی قوم ایسی نہیں جس میں خدا تعالیٰ کے انبیاء مبعوث نہ ہوئے ہوں ، نہ ہند و بغیر نبی کے رہے نہ ایرانی بغیر نبی کے رہے، نہ یہود بغیر نبی کے رہے اور نہ یورپین لوگ بغیر نبی کے رہے ، غرض قرآن کے آثار قدیمہ کے محکمہ نے بتایا کہ خدا نے ہر جگہ روشنی کے مینار کھڑے کئے تھے۔یہ اور بات ہے کہ بعد میں انہوں نے اس روشنی سے فائدہ اُٹھانا چھوڑ دیا مگر بہر حال خدا کی طرف سے انہیں ہدایت سے محروم نہیں کیا گیا۔ان میں جو خرابیاں پیدا ہوئی ہیں وہ بعد میں ہوئی ہیں جن کی ذمہ داری خود اُن پر ہے ورنہ خدا نے سب سے یکساں سلوک کیا ہے اور ہر ایک کی طرف اپنی رحمت کا ہاتھ بڑھایا ہے۔میں نے جب یہ دیکھا تو میری خوشی کی کوئی انتہا نہ رہی ، مگر میں نے کہا آؤ اب میں ان عظیم الشان ہستیوں کے کچھ نشانات بھی دیکھ لوں۔بیشک اُنہوں نے عظیم الشان کام کیا اور دنیا میں ایک تغیر عظیم پیدا کر دیا مگر میں دیکھوں تو سہی کہ انہوں نے اپنے پیچھے کیا چھوڑا ہے۔میں اس جستجو اور تلاش میں سابقہ کتب کے محکمہ آثار قدیمہ میں داخل ہو گیا مگر یہ دیکھ کر میری حیرت کی کوئی انتہا نہ رہی کہ ان عظیم الشان ہستیوں کے کپڑوں پر جو اُن کے اتباع کے پاس موجود تھے نہایت گندے اور گھناؤنے داغ تھے کی