سیر روحانی — Page 52
۵۲ حکم کے نتیجہ میں شیطان سے لڑائی شروع کر دی۔جب شیطان نے دیکھا کہ اس طرح کام نہیں بنے گا تو اس نے صلح صلح کا شور مچا دیا اور کہا کہ بھلا لڑائی سے بھی کبھی امن قائم ہو سکتا ہے امن تو صلح سے ہو سکتا ہے پس بہتر ہے کہ ہم آپس میں صلح کر لیں۔حضرت آدم علیہ السلام سے غلطی ہوئی اور انہوں نے شیطان سے صلح کر لی۔نتیجہ یہ ہوا کہ وہ بھی اسی جنت کے اندر آ گیا جہاں حضرت آدم علیہ السلام اور آپ کے ساتھی رہتے تھے اور اس طرح اندر رہ کر اس نے قوم میں فتنہ وفساد پیدا کر دیا اور وہ مقصد جس کو باہر رہ کر وہ حاصل نہیں کر سکا تھا وہ اُس نے اندر آ کر حاصل کر لیا اور بہت بڑا فساد پیدا ہو گیا۔تب اللہ تعالیٰ نے کہا کہ اب ہم تمہیں حکم دیتے ہیں کہ یہاں سے چلے جاؤ اور زمین میں پھیل جاؤ۔پس اگر اس کے کوئی معنے ہو سکتے ہیں تو یہی کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام کو حکم دیا تھا کہ خاندانِ ابلیس سے دُور رہو ، ابلیس نے صلح کی دعوت دی اور کہا کہ اس سے بڑی ترقی ہوگی ، حضرت آدم اس دھوکا میں آگئے اور شیطان سے صلح کر کے انہوں نے بہت کچھ تکلیف اُٹھائی نتیجہ یہ ہوا کہ خدا تعالیٰ نے کہا کہ تم یہاں سے چلے جاؤ اور زمین میں پھیل جاؤ اور یا درکھو کہ تم دونوں گروہوں میں ہمیشہ جنگ رہے گی یہ معنے بھی ہیں جو ان آیات کے ہو سکتے ہیں ، لیکن بہتر یہی ہے کہ جسے خدا نے چُھپایا ہے اُس کی جستجو میں ہم اپنے وقت کو ضائع نہ کریں اور جس سبق کے سکھانے کے لئے اس واقعہ کو بیان کیا گیا ہے وہ سبق حاصل کر لیں۔پیدائش انسانی میں ارتقاء کا ایک اور ثبوت پیدائش انسانی میں ارتقاء کا ایک اور ثبوت یہ بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے الہام میں بھی ارتقاء رکھا ہے۔کامل اور مکمل شریعت پہلے ہی روز نہیں آ گئی بلکہ آہستہ آہستہ اور درجہ بدرجہ الہام میں ترقی ہوئی ہے۔چنانچہ جب بھی غیر مذاہب والوں کی طرف سے اسلام پر اعتراض کیا جاتا ہے کہ اگر قرآن میں کامل شریعت تھی تو ابتدائے عالم میں ہی اللہ تعالیٰ نے اسے کیوں نازل نہ کر دیا، تو اس کا جواب ہماری طرف سے یہی دیا جاتا ہے کہ اگر اُس وقت قرآن نازل کر دیا جاتا تو کسی انسان کی سمجھ میں نہ آ سکتا کیونکہ ابھی عقلی ترقی اس حد تک نہیں ہوئی تھی کہ وہ قرآنی شریعت کے اسرار اور غوامض سمجھ سکے تو الہام الہی کا فلسفہ جو قرآن کریم نے بیان کیا ہے اس سے صریح طور پر یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ انسان کی ترقی بھی ارتقاء کے ماتحت ہوئی کی ہے۔دیکھ لو پہلے حضرت آدم آئے ، پھر حضرت نوح آئے ، پھر حضرت ابرا ہیم آئے ، پھر حضرت موسی آئے ، پھر حضرت عیسی آئے ، مگر باوجودیکہ حضرت عیسی علیہ السلام کے زمانہ تک