سیر روحانی — Page 716
کہ باغ کی جو کہ غَسَمُ الْقَوْم کے چر جانے کے خطرہ میں ہوتی ہے۔یعنی جب قوم کمزور پڑ جاتی ہے تو دشمن قو میں اس کو لوٹ سکتی ہیں۔اسی کو قرآن کریم میں دوسری جگہ بیان کیا گیا ہے که نَفَشَتُ فِيْهِ غَنَمُ الْقَوْمِ و پاس کی ہمسایہ قوموں کے جو جانور تھے اور بھیڑیں وغیرہ تھیں وہ اس کھیتی میں چر گئیں۔یعنی ارد گرد جو بخت نصر کا علاقہ یا رومی علاقہ تھا انہوں نے آکر موسوی کھیتی کو اپنے آگے رکھ لیا۔لیکن ساتھ ہی یہ بھی بتا دیا گیا تھا کہ درمیان میں نہر ہو گی۔یعنی آخری زمانہ اور موسوی زمانہ کے درمیان حضرت عیسی علیہ السلام کو پیدا کیا جائے گا۔چنانچہ موسوی قوم کی دو ترقیوں کے درمیان حضرت عیسی علیہ السلام پیدا ہوئے اور انہوں نے موسوی باغ کے لئے نہر کا کام دیا۔یہی سلسلہ دُہرانے کا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی وعدہ فرمایا گیا ہے چنانچہ اللہ تعالی قرآن کریم میں فرماتا ہے اِنَّا اَرْسَلْنَا إِلَيْكُمْ رَسُولاً شَاهِدًا بھی دو باغ عطا کئے جانے کا وعدہ عَلَيْكُمْ كَمَا اَرْسَلْنَا إِلَى فِرْعَوْنَ رَسُولًا۔٢٠ اے مکہ والو! ہم نے تمہاری طرف بھی ایک رسول تمہارا نگران بنا کر بھیجا ہے جس طرح فرعون کی طرف موسی کو رسول بنا کر بھیجا تھا۔یعنی محمد رسول اللہ مثیل موسی ہیں اور موسی“ کی قوم کے حالات ایک رنگ میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی پیش آئیں گے۔یعنی ان کو بھی دو باغ ملیں گے اور موسی کی طرح اُنکے زمانہ نبوت میں بھی ایک باغ تو وہ ہوگا جس میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت بغیر کسی اور مامور کی مدد کے چلے گی۔لیکن آخر میں اسلام کے تنزل کا دور آجائے گا اور وہ کھیتیوں کی طرح رہ جائے گا۔تب اللہ تعالیٰ موسوی سلسلہ کی طرح ایک مسیح محمدمی بھیجے گا جس کی اُمت دوسرے باغ کی حیثیت رکھے گی لیکن ہوگی وہ بھی محمد رسول اللہ کی اُمت اور اس کا باغ بھی محمد رسول اللہ کا باغ ہی کہلائے گا لیکن اس فرق سے کہ چونکہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم موسی سے افضل ہیں موسوی سلسلہ کے دوسرے حصہ کی بنیاد جس مسیح سے پڑی تھی وہ مستقل نبی تھا مگر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دوسرے باغ کی بنیاد جس مسیح سے پڑے گی وہ امتی نبی ہوگا۔یعنی وہ خود بھی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اُمت میں ہوگا اور اُس کے ماننے والے بھی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی امت میں ہی ہونگے۔پس اس کی کوئی جدا امت نہیں ہوگی بلکہ اس کے ماننے والے اُس کے مرید کہلائیں گے۔جیسا کہ جماعت احمدیہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی