سیر روحانی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 717 of 900

سیر روحانی — Page 717

212 مرید کہلاتی ہے لیکن امت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کہلاتی ہے۔چنا نچہ اس کا ثبوت کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اُمت میں امت محمدیہ کا بلند مقام سے امتی نبی آتے رہیں گے سورۃ نساء رکوع ۹ آیت ۷۰ سے ملتا ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔وَمَنْ يُطِعِ اللَّهَ وَالرَّسُولَ فَأُولئِكَ مَعَ الَّذِيْنَ اَنْعَمَ اللهُ عَلَيْهِم مِّنَ النَّبِيِّنَ وَالصِّدِيقِيْنِ وَالشُّهَدَاءِ وَالصَّلِحِينَ وَحَسُنَ أُولَئِكَ رَفِيقًا یعنی اے لوگو! یا د رکھو ہمارے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ایسا درجہ ہے کہ جو کوئی اللہ کی اطاعت کرے وَالرَّسُول اور اس رسول یعنی محمد رسول اللہ کی اطاعت کرے ، فَأُولَئِكَ مَعَ الَّذِينَ أَنْعَمَ اللهُ عَلَيْهِمُ وہ اُن لوگوں میں شامل ہو جائے گا جن پر خدا تعالیٰ نے انعام کیا۔وہ کون لوگ ہیں۔النَّبِيِّنَ وَالصِّدِّيقِينَ وَالشُّهَدَاءِ وَ الصَّلِحِينَ وہ نبی اور صدیق اور شہداء اور صالحین ہیں۔یعنی آپ کی اُمت میں داخل ہونے والے آپ کے فیض سے مستفیض ہو کر اور آپ کے نور سے منور ہو کر اور آپ کی روشنی کو حاصل کر کے اور آپ کے درس سے سبق سیکھ کر نبیوں اور صدیقوں اور شہداء اور صالحین کے مقام کو پہنچیں گے۔لیکن فرماتا ہے یہ در جے صرف محمد رسول اللہ کی اُمت میں مل سکتے ہیں کسی غیر کو حاصل نہیں ہو سکتے کیونکہ الرَّسُولَ كى اطاعت یعنی محمد رسول اللہ کی اطاعت سے ہی نبی اور صدیق وغیرہ بن سکتے ہیں۔قرآن کریم کی دوسری آیتوں سے ثابت ہوتا ہے کہ دوسرے نبیوں کی اطاعت کر کے انسان صدیق۔شہید اور صالح بن سکتا ہے مگر نبی نہیں بن سکتا۔مگر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کر کے نبی۔صدیق۔شہید اور صالح سب در جے حاصل کر سکتا ہے۔فلسطین اور کشمیر کے متعلق خدائی وعدہ پس محمدرسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم کو دو باغ مل گئے۔ایک باغ مسیح موعود کے ظہور سے پہلے زمانہ میں اور ایک باغ مسیح موعود کے ظہور کے بعد کے زمانہ میں۔چنانچہ پہلے زمانہ میں ڈ نیوی لحاظ سے وہی باغ آپ کو ملا جو موسی کی اُمت کو دنیوی لحاظ سے ملا تھا یعنی فلسطین اور کشمیر کا علاقہ۔فلسطین میں بھی بڑے باغات ہیں۔میں نے ۱۹۲۴ء میں جب سفر کیا تو فلسطین بھی گیا تھا۔میں ریل میں دمشق سے بیروت آیا جب بیروت کے قریب پہنچے تو میں نے دیکھا کہ ریل شہر کے اندر داخل ہو رہی ہے اور ہر گھر میں باغیچے لگے ہوئے ہیں۔اور دمشق میں میں نے دیکھا کہ گھر گھر میں نہریں جاری تھیں اور ہر گھر میں باغ لگا ہوا تھا۔اسی طرح کشمیر کا حال ہے کہ وہاں