سیر روحانی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 690 of 900

سیر روحانی — Page 690

۶۹۰ وہ تو اسی انسانی جسم کا حصہ ہیں تم پھر بھی بن جاؤ تب بھی خدا تمہیں پیدا کر سکتا ہے۔پھر علم فلسفہ ہے۔فلسفہ کے معنے ہوتے ہیں کسی چیز کی حکمت بیان کرنا۔علم فلسفہ کی نہر اللہ تعالیٰ علیم فلسفہ کی طرف بھی توجہ دلاتا ہے اور فرماتا ہے وَاَنْزَلَ اللهُ عَلَيْكَ الْكِتبَ وَالْحِكْمَةَ وَعَلَّمَكَ مَا لَمْ تَكُنْ تَعْلَمُ وَكَانَ فَضْلُ اللهِ عَلَيْكَ عَظِيْماً۔اللہ تعالیٰ نے تجھ پر کتاب اور حکمت نازل کی ہے اور تجھے وہ کچھ علم سکھایا ہے جو پہلے تو نہیں جانتا تھا۔اس میں بتایا گیا ہے کہ ہر چیز کی حکمت ہوا کرتی ہے وہ حکمت سیکھنے کی کوشش کرو۔اسی حکمت کو فلسفہ کہتے ہیں جو قرآن کریم میں بیان ہے۔مثلاً تاریخ تو یہ ہے کہ اورنگ زیب کوئی بادشاہ تھا، اکبر کوئی بادشاہ تھا اور یہ بحث کہ اکبر ترک تھا یا مغل ؟ وہ ہندوستان میں کیوں آیا اس کے ملک میں کیا حالات پیدا ہوئے تھے جن کی وجہ سے وہ اپنا ملک چھوڑ کر ہندوستان آیا اور کونسے حالات پیدا ہوئے کہ جن کی وجہ سے اُس نے تھوڑی سی فوج سے جو صرف چند ہزار سپاہیوں پر مشتمل تھی چالیس کروڑ کے ملک کو فتح کر لیا ( گو اُسوقت تو چالیس کروڑ نہیں تھے صرف دو کروڑ کی آبادی تھی) یہ چیز ہے جو فلسفہ کہلاتی ہے۔اسی طرح یہ مواد کہ اُن کے ملک میں اچھی غذا نہیں ہوتی تھی ، اچھی زمینیں نہیں تھیں اور ادھر ہندوستان میں لڑائیاں تھیں، فساد تھے، جھگڑے تھے جنکی وجہ سے اُس کی فوج تھوڑی دیر میں ہی غالب آگئی یہ فلسفہ ہے۔غرض فلسفہ تاریخ اور چیز ہے اور تاریخ اور چیز ہے۔دیباچہ ابن خلدون جو ایک مشہور کتاب ہے اُس میں فلسفہ تاریخ پر ہی بحث ہے۔ایک انگریز پروفیسر ایک دفعہ مجھے قادیان میں ملنے آیا تو میں نے اُس سے کہا کہ فلسفہ تاریخ پر اگر کوئی اعلیٰ سے اعلیٰ کتاب تم کو معلوم ہے تو بتاؤ۔وہ کہنے لگا کہ دیباچہ ابن خلدون سے بڑھ کر یورپ اور امریکہ میں کوئی کتاب نہیں۔جو کچھ فلسفہ اس نے بیان کیا ہے اس سے بڑھ کر ہم بیان نہیں کر سکتے وہ سب سے اعلیٰ کتاب ہے۔مگر ابن خلدون نے فلسفہ تاریخ کو کیوں بیان کیا ؟ اسی لئے کہ قرآن کریم میں اس نے پڑھا تھا کہ ہر چیز کا فلسفہ معلوم کر وجب تم معلوم کرو گے تو تمہیں اصل راز کا پتہ لگ جائے گا۔اُس نے سوچا کہ اسلامی حکومتیں کیوں تباہ ہوئیں دوسرے ملک کیوں تباہ ہوئے اور اس نے فلسفئہ سیاست پر غور کیا تو یہ دیباچہ لکھا مگر اُسے اس علم کا قرآن کریم سے ہی پتہ لگا کیونکہ قرآن کریم نے ہی اس علم کی طرف توجہ دلائی ہے۔علم منطق کی نہر پھر علم منطق کو لو وہ بھی قرآن کریم بیان کرتا ہے۔فرما تا ہے وَإِذَا قِيلَ لَهُمُ اتَّبِعُوا مَا اَنْزَلَ اللهُ قَالُوا بَلْ نَتَّبِعُ مَا الْفَيْنَا عَلَيْهِ