سیر روحانی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 673 of 900

سیر روحانی — Page 673

۶۷۳ اگر واقع میں کسی یہودیت اور عیسائیت کو بہائی کیوں منسوخ قرار نہیں دیتے ؟ غیر قوم کے اندر آجانے سے کوئی پیشگوئی غلط ہو جاتی ہے اور عارضی قبضہ بھی مستقل قبضہ کہلاتا ہے تو تم نے سو سال پیچھے ایک دفعہ قبضہ دیکھا ہے۔تین سو سال دوسری دفعہ کا فروں کا قبضہ دیکھا ہے ، اُس وقت کی یہودیت کو تم منسوخ نہیں کہتے اُس وقت کی عیسائیت کو تم منسوخ نہیں کہتے لیکن اسلام کے ساتھ تمہاری عداوت اتنی ہے کہ پانچ سال کے بعد ہی تم اس کو اسلام کی منسوخی کی علامت قرار دیتے ہو۔جب اتنا قبضہ ہو جائے جتنا کہ عیسائیت کے زمانہ میں یہ اُن کے ہاتھ سے نکلی رہی تھی اور فلسطین غیر عیسائیوں کے قبضہ میں رہا تھا یا غیر یہودیوں کے قبضہ میں رہا تھا تب تو کسی کا حق بھی ہوسکتا ہے کہ کہے لوجی! اسلام کے ہاتھ سے یہ جا گیر نکل گئی لیکن جب تک اتنا قبضہ چھوڑ اس کا سواں حصہ بھی قبضہ نہیں ہوا، ساٹھواں حصہ بھی قبضہ نہیں ہوا، پچاسواں حصہ بھی قبضہ نہیں ہوا تو اس پر یہ اعتراض کرنا محض عداوت نہیں تو اور کیا ظاہر کرتا ہے۔بہائیوں کی اپنی لا مرکزیت پھر عجیب بات یہ ہے کہ اعتراض کرنے والے بہائی ہیں جن کا اپنا وہی حال ہے جیسے ہمارے ہاں مثل مشہور ہے کہ نہ آگا نہ پیچھا۔وہ اسلام پر اعتراض کرتے ہیں حالانکہ مکہ اس کے پاس ہے مدینہ اس کے پاس ہے۔ہم ان سے کہتے ہیں ، چھاج بولے تو بولے چھلنی کیا بولے جس میں سو سوراخ “۔تمہارا کیا حق ہے کہ تم اسلام پر اعتراض کرو۔تمہارے پاس تو ایک چپہ زمین بھی نہیں جس کو تم اپنا مرکز قرار دے سکو اسلام کا تو مکہ بھی موجود ہے اور مدینہ بھی موجود ہے۔وہ تو ایک زائد جا گیر تھی ، وہ جاگیر اگر عارضی طور پر چلی گئی تو پھر کیا ہوا۔اس کے مقابلہ میں ۱۸۷۰ء سے بہائیت کا آغاز ہوا اور اب ۱۹۵۴ء ہو گیا ہے۔اس کے معنے یہ ہیں کہ اُن کے مذہب کو قائم ہوئے چوراسی سال ہو گئے اور چوراسی سال میں ایک گاؤں بھی تو انہوں نے مقدس نہیں بنایا۔وہ کہہ سکتے ہیں کہ ہمیں حکومت حاصل نہیں۔لیکن سوال یہ ہے کہ ہمارے پاس بھی تو حکومت نہیں ، ہم نے تو چند سال میں بوہ بنالیا۔پہلے قادیان بنا ہو ا تھا اب ربوہ بنا ہوا ہے۔یہاں ہم آتے ہیں، نمازیں پڑھتے ہیں اکٹھے رہتے ہیں، یہ بھی تو بتا ئیں کہ دنیا میں ان کا کوئی مرکز ہے۔یا دنیا میں کسی جگہ پر وہ اکٹھے ہوتے ہیں؟ لیکن اسلام پر صرف پانچ سال کے قبضہ کی وجہ سے اُن کے بغض نکلتے ہیں اور کہتے ہیں اسلام ختم ہو گیا اور اپنی یہ حالت ہے کہ ملکہ کو مرکز قرار دیا ہوا ہے اور کہتے ہیں کہ حدیثوں