سیر روحانی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 617 of 900

سیر روحانی — Page 617

۶۱۷ پانی ٹپکنے لگ جاتا ) اور جب وہ نمازوں کے لئے کھڑے ہوتے تو گھٹنوں تک کیچڑ لگا ہوتا تھا اور کوئی خشک جگہ اُن کو بیٹھنے کے لئے نہیں ملتی ، جب عبادت کر کے پھر وہ اکٹھے ہو کر باتیں کر رہے ہوتے ہیں تو میں عالم خیال میں قریب سے اُن کی باتیں سنتا ہوں اور میں دیکھتا ہوں کہ اُن کے پھٹے ہوئے کپڑے ہیں، کسی کے پاس گر تہ ہے تو تہہ بند نہیں ہے، کسی کے پاس تہہ بند ہے تو گر تہ نہیں ہے ، کسی کے سر پر ٹوپی ہے تو جوتی نہیں ہے، کسی کے پاس پھٹی ہوئی جوتی ہے تو ٹوپی نہیں اور وہ سر گوشیاں کر رہے ہیں اور میں قریب ہو کر اُن کی باتیں سُنتا ہوں کہ وہ کیا کہہ رہے تھے۔جب میں قریب پہنچتا ہوں تو وہ یہ کہتے سنائی دیتے ہیں کہ خدا تعالیٰ نے ہمیں دنیا کی کی بادشاہت عطا کر دی ہے۔ہم مشرق پر بھی قابض ہو جائیں گے اور ہم مغرب پر بھی قابض ہو جائیں گے، ہم شمال پر بھی قابض ہو جائیں گے اور ہم جنوب پر بھی قابض ہو جائیں گے۔اور پھر عجیب بات یہ ہے کہ میں نے دیکھا کہ ایسا ہی ہو جاتا ہے۔اب بتاؤ کہ میں اسلام کو کسی طرح جھوٹا کہوں؟ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مسجد ایسی تھی کہ بعض غریب گاؤں کے لوگ جب میرے پاس آتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم نے مسجد بنانی ہے تو میں کہتا ہوں کہ ایسی ہی بنالو۔وہ کہتے ہیں نہیں جی ! کچھ تو اچھی ہو۔تو کسی گاؤں کے پانچ آدمی بھی اس مسجد کی طرح مسجد بنانے کو تیار نہیں ہوتے جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تھی لیکن ان مسجدوں میں جو نماز پڑھنے والے ہوتے ہیں وہ اپنے ہمسائیوں سے ڈر رہے ہوتے ہیں مگر اُس کھجور کی ٹہنیوں کی چھت والی مسجد جس میں پانی ٹپکتا رہتا تھا نماز پڑھنے والے یوں بیٹھے ہوتے تھے کہ گویا انہوں نے دُنیا کو فتح کرنا ہے اور وہ واقع میں دنیا کو فتح کر لیتے ہیں۔ایک ایک گوشہ اُن کے قدموں کے نیچے آتا ہے اور اُن کے گھوڑوں کی ٹاپوں کے نیچے بڑے بڑے بادشاہوں کی کھوپڑیاں تڑپتی جاتی ہیں۔اسلام کے ذریعہ دنیا میں ایک بہت بڑا انقلاب رونما ہو گیا غرض اس لو بت خانہ میں اس اعلان کی دیر تھی کہ لَا إِلهَ إِلَّا الله دنیا میں آب خدا کی بادشاہت کے سوا ہم کسی کو نہیں چھوڑیں گے کہ ایک بہت بڑا انقلاب رونما ہو گیا۔خدا کی بادشاہت آسمان سے زمین پر آگئی اور ظلم اور جور کی دُنیا عدل اور انصاف سے بھر گئی۔اس سے چھ سو سال پہلے ایک اور شخص جو برگزیدہ تھا، ایک اور شخص جس کو خدا کا بیٹا کہا جاتا ہے، ایک اور شخص جس کی اطاعت کا آج دُنیا کی اکثریت اقرار