سیر روحانی — Page 618
۶۱۸ کر رہی ہے ، ایک اور شخص جس کی حکومت میں انگلستان کی حکومت، فرانس کی حکومت ، سپین کی حکومت ، جرمنی کی حکومت، پولینڈ کی حکومت، فلپائن کی حکومت ، امریکہ کی ساری حکومتیں اور ریاستیں اُس کی خدائی کی اقراری ہیں اور اُس کے آگے سر جُھکاتی ہیں۔وہ بھی کہتا ہے کہ :- ”اے خدا ! جس طرح آسمان پر تیری بادشاہت ہے اُسی طرح زمین پر بھی ہو۔‘۶۸۰ مگر آج اُنیس سو سال گزر گئے اُس کے ذریعہ سے خدا کی بادشاہت جو آسمان پر ہے زمین پر قائم نہیں ہوئی لیکن یہ شخص جو ایک ایسے کچے مکان میں رہ کے اور اس نوبت خانہ میں آکے خدا تعالیٰ کا پیغام سُنا تا ہے ، وہ ابھی مرنے نہیں پاتا کہ خدا کی بادشاہت دنیا میں قائم ہو جاتی ہے۔اور اُس کی وفات کے نو سال کے اندر اندر سارے عرب پر بادشاہت قائم ہو جاتی ہے۔وہ کھڑا ہوتا ہے اور ایسے وقت میں جب دشمن کی فوجیں اُسے چاروں طرف سے گھیرے ہوئے کھڑی ہیں ، مدینہ سے باہر نکل کر پا خانہ کوئی پھر نہیں سکتا ، خندق کھودی جاتی ہے تا دشمن کے حملہ سے بچائے۔ایک پتھر نہیں ٹو تھا۔صحابہ کہتے ہیں يَا رَسُولَ اللهِ! پتھر نہیں ٹوٹتا۔فرماتے ہیں لاؤ ہتھوڑا مجھے دو میں تو ڑتا ہوں۔آخرہ تھر پر ہتھوڑا مارتے ہیں۔وہ پتھر بڑا سخت ہے۔اُس پر ہتھوڑا مارتے ہیں تو اُس میں سے شعلہ نکلتا ہے۔پھر مارتے ہیں پھر شعلہ نکلتا ہے۔آپ ہر دفعہ کہتے ہیں اللهُ أَكْبَرُ اللَّهُ اَكْبَرُ۔پھر تیسری دفعہ مارتے ہیں۔جب شعلہ نکلتا ہے پھر اللهُ اَكْبَرُ کہتے ہیں۔صحابہ بھی اللہ اکبر کہتے ہیں۔آپ نے فرمایا تم نے کیوں اللهُ أَكْبَرُ کہا ؟ انہوں نے کہا يَا رَسُولَ اللهِ ! آپ نے کیوں کہا ؟ آپ نے فرمایا۔میں نے پہلی دفعہ پتھر پر ہتھوڑا مارا تو اُس میں سے فعلہ نکلا اور اُس فعلہ میں سے خدا تعالیٰ نے مجھے دکھایا کہ قیصر کی حکومت توڑ دی گئی۔اور میں نے کہا اللهُ اَكْبَرُ۔جب میں نے دوسرا ہتھوڑا مارا تو پھر اُس میں سے دوسرا شعلہ نکلا اور مجھے یہ نظارہ دیکھایا گیا کہ کسری کی حکومت توڑ دی گئی پھر میں نے اللهُ أَكْبَرُ کہا۔جب میں نے تیسرا ہتھوڑا مارا ، مجھے دکھایا گیا کہ حمیر کی حکومت توڑ دی گئی۔اس پر پھر میں نے اللهُ اَكْبَرُ کا نعرہ مارا۔صحابہ نے کہا يَا رَسُولَ اللهِ ! ہمارے بھی نعرے اِسی طرح سمجھ لیجیئے۔19 قیصر وکسرای کی حکومتوں کی جگہ خدائے واحد کی حکومت قائم کر دی گئی پھر آپ کردی نے فرمایا