سیر روحانی — Page 537
۵۳۷ آئی ہوئی ہیں اور انہوں نے ہمیں اشارہ کر کے بلایا تھا جس پر ہم چلی گئیں۔پھر انہوں نے بتایا کہ ایک انجینئر ہیں ، وہ اپنی بیوی اور بیٹی کو لے کر ولایت جا رہے ہیں اور یہ جو بیٹی ہے یہ ایک احمدی سے بیاہی جانے والی ہے۔منگنی اِس کی ہو چکی ہے اور لڑکا احمدی ہے ماں نے کہا کہ میری یہ بیٹی احمدیوں میں بیا ہی جانے والی ہے اور ان کے امام یہاں آئے ہوئے ہیں اگر ان سے میرا خاوند مل لے تو ذرا تعلق پیدا ہو جائے گا کیونکہ آئندہ احمدیوں کے گھروں میں ہم نے جانا ہے اس لئے انہوں نے بلا یا تھا کہ اگر آپ اجازت دیں تو وہ آپ سے بات کر لیں۔میں نے کہا آجائیں اس کے بعد ہم ذرا آگے کوئی جگہ دیکھنے کے لئے چل پڑے تو پھر چلتے چلتے یکدم میں نے دیکھا کہ میری بیوی اور بیٹی دونوں غائب ہیں۔میں نے مُڑ کر جو دیکھا تو معلوم ہوا کہ پھر وہ عورتیں انہیں اشارہ کر کے لے گئی ہیں اور دو مرد کچھ قدم آگے آگئے۔میں نے سمجھا کہ یہ وہی ہیں جنہوں نے ملنا ہے۔پاس پہنچے تو انہوں نے اَلسَّلَامُ عَلَيْكُمُ کہا میں نے وَعَلَيْكُمُ السَّلَامُ کہا۔اور پوچھا کہ فرمائیے کیا بات ہے؟ اُن میں سے ایک نے کہا کہ اس اس طرح میری بیوی کو پتہ لگا تو اُس نے ہمیں اطلاع دی۔میری لڑکی میرے بھائی کے بیٹے سے بیا ہی جانے والی ہے اور میرا بھائی احمدی ہے تو چونکہ لڑکی احمد یوں میں جانی ہے اور میرا بھائی بھی احمدی ہے اس لئے میں نے خواہش کی کہ میں آپ سے مل لوں۔میں نے کہا بڑی اچھی بات ہے۔پھر میں نے کہا آپ کا کونسا بھائی احمدی ہے۔انہوں نے نام بتایا میں نے کہا وہ تو ہماری جماعت کے وہاں امیر ہیں۔کہنے لگا جی ہاں۔ایک میرا وہ بھائی ہے وہ تو بیچارے بعد میں فوت ہو گئے لیکن دوسرے بھائی موجود ہیں غلام سرور اُن کا نام ہے اور چار سدہ کے رہنے والے ہیں تو کہنے لگے غلام سرور جو میرا بھائی ہے وہ احمدی ہے اور میں اور میرا یہ بھائی دونوں غیر احمدی ہیں۔میں نے کہا آپ کیوں نہیں احمدی ہوئے کیا آپ نے ہما را لٹریچر نہیں پڑھا؟ کہنے لگے نہیں میں نے نہیں پڑھا پھر کہنے لگے دیکھیئے ہم نے تو انصاف کر دیا ہے آپ کا اور ان کا جھگڑا ہے۔ہم نے دو بھائی آپ کو دے دیئے ہیں اور دو بھائی ان کو دے دیئے ہیں اس طرح ان کو تقسیم کر دیا ہے گویا اٹھتی آپ کو دے دی ہے اور اٹھنی اُن کو دے دی ہے۔انہوں نے مذاق کے رنگ میں یہ بات کہی۔میں نے بھی آگے مذاق کے رنگ میں کہا کہ آپ کو ہما را پتہ نہیں ہم اس معاملہ میں بڑے حریص ہیں اور ہم سارا روپیہ لے کر راضی ہوا کرتے ہیں اٹھتی لے کر راضی نہیں ہوا کرتے۔کہنے لگے لے لیجیے۔میں نے کہا دیکھیں گے۔پھر میں نے کہا آ۔