سیر روحانی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 538 of 900

سیر روحانی — Page 538

۵۳۸ نے کبھی لٹریچر نہیں پڑھا۔کہنے لگے میں نے کبھی نہیں پڑھا اور نہ مجھے فرصت ہے۔اب جو میں ولایت جانے کے لئے چلنے لگا تو میرے بھائی نے جن سے مجھے بہت محبت ہے اور وہ مجھ سے بڑے بھی ہیں جب میں کپڑے وغیرہ بھر رہا تھا تو میری بیوی کو مجبور کر کے کچھ کتابیں لا کے ٹرنک میں ڈال دیں اور کہنے لگے یہ پڑھنا۔میں نے کہا بھائی ! پڑھنے کی کس کو فرصت ہے۔کہنے لگے۔جہاز پر اُن کو فرصت کے موقع پر پڑھتے رہنا۔میں نے انہیں کہا کہ مجھے آپ کا لحاظ ہے اس لئے رکھ دیں ورنہ میں نے کہاں پڑھنی ہیں۔تو بس اتنی بات ہے ورنہ میں نے پڑھا پڑھایا کچھ نہیں۔میں نے کہا اچھا اٹھنی پر تو ہم راضی نہیں ہوا کرتے ہم تو پورا روپیہ ہی لیا کرتے ہیں۔اس کے بعد وہ چلے گئے۔تین چار مہینے ہوئے مجھے لنڈن سے ایک خط مل۔اس خط کا مضمون ان الفاظ سے شروع ہوتا تھا کہ میں وہ شخص ہوں جو دہلی کے قلعہ میں آپ سے ملا تھا اور میں نے آپ سے مذاقاً کہا تھا کہ ہم نے احمدیوں اور غیر احمدیوں میں پورا انصاف کر دیا ہے۔ٹھنی ہم نے آپ کو دیدی ہے اور اٹھنی ہم نے انکو دے دی ہے اور آپ نے اُس وقت یہ کہا تھا کہ ہم تو اٹھنی پر راضی نہیں ہوا کرتے ہم تو پورا روپیہ لے کر راضی ہوا کرتے ہیں۔آپ حیران ہو نگے کہ میں لنڈن سے ایک چونی آپ کو بھیج رہا ہوں ،ایک چونی باقی رہ گئی ہے اور میری بیعت کا یہ خط ہے۔آگے انہوں نے تفصیل لکھی اور اُس میں انہوں نے لکھا کہ میں جس وقت یہاں آیا تو آپ جانتے ہیں ہم پٹھان لوگ ہیں اور ہمیشہ نعروں پر ہماری زندگی ہوتی ہے۔کہ انگریز ہم کو یوں قتل کریں گے انگریز ہم کو یوں ماریں گے، یہ ہوتے کون ہیں ہم پستول یا رائفل سے ڈر کریں گے اور وہ بھاگ نکلیں گے۔یہ تو کبھی سوچا نہیں تھا کہ ہمارے پاس کیا سامان ہیں اور ان کے پاس کیا سامان ہیں۔صرف اتنا ہم جانتے تھے کہ ہم اپنی جانیں دے دیں گے اور اِن کو مار ڈالیں گے۔یہی خیالات میرے بھی تھے اور میرا خیال تھا کہ ان کی دُنیوی ترقی اور کالج وغیرہ دیکھونگا۔مجھے یہ پتہ نہیں تھا کہ ان کے سامانِ جنگ ایسے ہیں کہ ہم اِن کا مقابلہ نہیں کر سکتے۔جب میں یورپ میں آیا تو میں اٹلی میں گیا ، فرانس میں گیا ، جرمنی میں گیا ، انگلینڈ میں آیا اور میں نے ان کی فوجیں دیکھیں۔توپ خانے دیکھے ، ہوائی جہاز دیکھے ، ان کے گولہ بارود کے کارخانے دیکھے تو میں نے کہا یہ تو ایسی بات ہے جیسے چڑیا کہے کہ میں باز کو مارلونگی ہمارے اندر اس کے لئے کوئی طاقت ہی نہیں اور اس کو دیکھ کر میں بالکل مایوس ہو گیا۔پہلے تو ہم خیال کرتے تھے کہ ہم اتفاقا انگریز کے ماتحت آگئے