سیر روحانی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 525 of 900

سیر روحانی — Page 525

۵۲۵ کہ لمبی لمبی باتیں بھی مختصر ہو جاتی ہیں اس لئے میں ابھی نہیں کہہ سکتا کہ وہ نوٹ جو درحقیقت ایک ہی مضمون کے متعلق ہیں اور اپنے خیال میں میں نے انہیں مختصر کیا ہے آیا تقریر کے وقت بھی وہ لمبے ہو جاتے ہیں یا چھوٹے ہو جاتے ہیں۔بہر حال یہ اللہ تعالیٰ کے فعل پر منحصر ہے مجھے بھی نہیں معلوم اور آپ کو بھی نہیں معلوم۔نئے لوگوں کی واقفیت کیلئے بعض پرانی باتیں جی لوک بعض لوگ جو نئے آئے ہیں اُن کی اطلاع کے لئے میں یہ بتاتا ہوں کہ ۱۹۳۸ء میں میں نے ایک سفر کیا تھا۔اُس سفر میں مختلف جگہوں پر جب میں نے مختلف چیزیں پُرانے آثار کی یا نیچر کی دیکھیں تو اُن کا میری طبیعت پر ایک گہرا اثر پڑا۔انسانی مصنوعات اور انسانی شان و شوکت کو دیکھ کر اور اسلام کے نشانوں کو مٹا ہوا دیکھ کر اور اُس کی جگہ کفر اور ضلالت کو غالب دیکھ کر میری طبیعت سخت غمزدہ ہوئی اور مجھے بہت رنج پہنچا۔اس سفر میں ہم پہلے بمبئی گئے تھے ، بمبئی سے حیدر آباد گئے ، حیدرآباد سے پھر آگرہ آئے ، آگرے سے دتی آئے اور دتی میں ایک دن سیر کرتے ہوئے ہم غیاث الدین تغلق کے قلعہ پر چڑھے وہاں سے ہمیں دتی کے تمام مناظر نظر آ رہے تھے۔دتی کا پرانا شہر بھی نظر آتا تھا، نیا شہر بھی نظر آتا تھا، قطب صاحب کی لاٹ بھی نظر آتی تھی ، نظام الدین صاحب اولیاء کا مقبرہ بھی نظر آتا تھا ، لو ہے کی لاٹ بھی نظر آتی تھی اور لودھیوں کے قلعے بھی نظر آتے تھے ،سوریوں کے قلعے بھی نظر آ رہے تھے ، مغلوں کے قلعے بھی نظر آتے تھے ، باغات بھی نظر آتے تھے ، غرض عجیب قسم کا وہ نظارہ تھا جو نظر آرہا تھا۔ایک طرف وہ شان و شوکت ایک ایک کر کے سامنے آرہی تھی کہ رکس طرح مسلمان یہاں آئے ، کس طرح اُنکو غلبہ حاصل ہوا ، کتنی کتنی بڑی انہوں نے عمارتیں بنائیں اور اس کے بعد وہ خاندان تباہ ہوا، پھر دوسرا آیا تو وہ تباہ ہوا، پھر تیسرا آیا اور وہ تباہ ہوا اور اب آخر میں یہ نشانات انگریزوں کی سیر گاہیں بنی ہوئی ہیں۔اس نظارہ کو دیکھ کر میری طبیعت پر ایک غیر معمولی اثر پیدا ہوا اور میں نے کہا۔کیا ہے یہ دنیا جس میں اتنی شاندار ترقی کے بعد بھی انسان اتنا گر جاتا اور تباہ ہو جاتا ہے۔میرے ساتھ میری بڑی ہمشیرہ بھی تھیں یعنی ہمشیروں میں سے بڑی ورنہ یوں وہ مجھ سے چھوٹی ہیں۔اسی طرح میری لڑکی امتہ القیوم بیگم بھی تھی اور میری بیوی اُمِ متین بھی تھیں ، میں وہاں کھڑا ہو گیا اور میں اس نظارہ میں محو ہو گیا۔ایک ایک چیز کو میں دیکھتا تھا اور میرے دل میں خنجر چھتا تھا کہ کسی وقت اسلام کی یہ شان تھی مگر آج مسلمانان