سیر روحانی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 526 of 900

سیر روحانی — Page 526

۵۲۶ انگریز کا ٹکٹ لئے بغیر ان عمارتوں کے اندر جا بھی نہیں سکتے۔یہ عمارتیں جو مسلمانوں نے بنائی تھیں آج یہاں سرکاری دفتر بنے ہوئے ہیں اور اس کو سیر گاہ بنا دیا گیا ہے۔جن خاندانوں کے یہ مکان تھے اُن کی نسلیں چپڑاسی بنی ہوئی ہیں ، کلرک بنی ہوئی ہیں ، ادنی ادنی کام کر رہی ہیں اور یوروپین لوگوں کے ٹھڈے کھا رہی ہیں۔غرض میں اس بات سے اتنا متاثر ہوا کہ میں کھڑے ہوئے انہی خیالات میں محو ہو گیا اور انہوں نے مجھے آوازیں دینی شروع کر دیں کہ بہت دیر ہو گئی ہے۔مگر میں چوٹی پر کھڑا اس کو سوچ رہا تھا اور دنیا وَمَافِیھا سے غافل تھا۔سوچتے سوچتے یکدم اللہ تعالیٰ نے میرے دل پر القاء کیا کہ ہم نے جو اسلام کو قائم کیا تھا تو قرآن کریم کے لئے قائم کیا تھا ان عمارتوں کے لئے قائم نہیں کیا تھا۔ہم نے جو تم سے وعدے کئے تھے وہ قرآن کریم میں بیان ہیں، وہ یہ وعدے نہیں تھے جو تُغلقوں اور سُوریوں نے سمجھے تھے بلکہ وہ وعدے وہ ہیں جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کئے گئے تھے اور یہ چیزیں جو تم دیکھ رہے ہو اُن کی مثالیں بھی قرآن کریم میں موجود ہیں اور ان سے بہت زیادہ اعلیٰ اور شاندار ہیں اور قیامت تک موجود رہیں گی تم ان کو دیکھ کر کیا غم کرتے ہو جبکہ ان سے زیادہ شاندار چیزیں تمہارے پاس موجود ہیں۔جس وقت تم چاہو قرآن اُٹھا ؤ اُس میں سے تمہیں یہ ساری چیزیں نظر آجائیں گی۔غرض بجلی کی طرح یہ مضمون میرے نفس میں گو ندا اور میں نے وہاں سے حرکت کی اور نیچے کی طرف اُترنا شروع کیا اور میں نے کہا۔میں نے پالیا۔میں نے پالیا جس طرح بدھ کے متعلق مشہور ہے کہ وہ خدا کے متعلق غور کر رہا تھا کہ سالہا سال غور کرنے کے بعد یہ انکشاف اُس پر ہوا اور بے اختیار ہو کر اُس نے اپنی آنکھیں کھو لیں اور کہا : میں نے پالیا۔میں نے پالیا اِس طرح اُس وقت بے اختیار میری زبان پر بھی یہ الفاظ جاری ہو گئے کہ : میں نے پالیا۔میں نے پالیا میری بیٹی امتہ القیوم بیگم نے مجھ سے کہا۔" ابا جان! آپ نے کیا پا لیا؟ میں اُس وقت اس دنیا میں واپس آچکا تھا۔میں نے اُسے کہا۔بیٹی ! میں نے پا تو لیا ہے لیکن اب میں وہ تم کو نہیں بتا سکتا بلکہ ساری جماعت کو اکٹھا بتاؤں گا۔چنانچہ اس پر میں نے تقریر شروع کی جو